واپس

اردو

أردو

اہم اسباق

1 ویڈیو
PDF

وضو

3 ویڈیو
Description of Wudu
0:00 / 0:00
How to Perform Wudu
0:00 / 0:00
Wudu Affairs
0:00 / 0:00

نماز

3 ویڈیو
Description of Prayer
0:00 / 0:00
Salah with Duaa
0:00 / 0:00
How to Perform Prayer
0:00 / 0:00

اہم سوالات

272 سوال
عقیدہ کا بیان42

س1: آپ کا رب کون ہے؟

ج- میرا رب اللہ تعالی ہے جس نے اپنى نعمتوں کے ذریعے میرى اور سارے جہان والوں کى پرورش وپرداخت کى ہے اور سارى آسانیاں بہم پہوںچائى ہیں۔
اس کی دلیل یہ فرمان الٰہی ہے:
(ساری تعریف اللہ کے لیے ہے جو سارے جہاں کا رب ہے)۔ [سورۂ فاتحہ: 2]۔

س2: آپ کا دین کیا ہے؟

ج- میرا دین اسلام ہے، اسلام: توحید کے ذریعے اللہ کے سامنے خود سپردگی، اطاعت کے ذریعے اس کی فرماں برداری اور شرک و مشرکین سے براءت کا نام ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے"۔ [سورۂ آل عمران: 19]

س3: آپ کے نبی کون ہیں؟

ج- محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(محمد اللہ کے رسول ہیں)۔ [سورۂ فتح: 29]

س4: کلمۂ توحید اور اس کے معنی بتائیں؟

کلمۂ توحید ''لا إله إلا الله'' ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں)۔ [سورۂ محمد: 19]

س5: اللہ تعالی کہاں ہے؟

ج- اللہ تعالی بلندی میں تمام مخلوقات سے اوپر عرش پر ہے،اللہ تعالی کا فرمان ہے: ( رحمٰن عرش پر مستوى ہے)۔ [سورۂ طہ: 5] مزید ارشاد فرمایا: (اور وہی اللہ اپنے بندوں کے اوپر غالب ہے برتر ہے اور وہی بڑی حکمت والا اور پوری خبر رکھنے والا ہے) [ سورۂ أنعام: 18]

س6: رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے اللہ کے رسول ہونے کى گواہی دینے کا معنی کیا ہے؟

ج- اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالی نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو انسانوں اور جنوں کے لیے ڈرانے والا اور خوش خبری دینے والا بنا کر بھیجا ہے۔
اور یہ واجب ہے کہ:

1- رسول صلى اللہ علیہ سلم کے حکم کی تعمیل کی جاۓ۔
2- جن چیزوں کی آپ نے خبر دی ہے اس میں آپ کى تصدیق کی جاۓ۔
3- آپ کی نافرمانی نہ کی جاۓ۔
4- ہر عبادت آپ کی شریعت کے مطابق کی جاۓ، یعنی بدعت کو چھوڑ کر ان کی سنت کی پیروی کی جاۓ۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
(جس نے رسول کی اطاعت کی یقینا اس نے اللہ کی اطاعت کی) [سورۂ نساء: 80]۔ اوردوسری جگہ فرمایا: (اور نہ وہ اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں،وہ تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے) [سورۂ نجم: 3، 4] دوسری جگہ اللہ جل ذکرہ نے فرمایا: (یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے)۔ [سورۂ احزاب: 21]

س7: اللہ تعالی نے ہمیں کیوں پیدا کیا؟

ج- اللہ تعالی جس کا کوئی شریک نہیں،اس نے ہمیں اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔
کھیل تماشہ کے لیے نہیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"اور میں نے جن وانس کو صرف اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں" [56] [سورۂ ذاريات: 56]

س8: عبادت کیا ہے؟

ج- عبادت ایک جامع لفظ ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام محبوب و پسندیدہ، ظاہری و باطنی اقوال و افعال کو شامل ہے۔
ظاہری:
جیسے زبان سے حمد وثنا اور تسبیح وتکبیر کے الفاظ کہنا، نماز اور حج۔
باطنی:
جیسے توکل، ڈر اور امید۔

س9- ہم پرعظیم ترین واجب کونسا ہے؟

ج- ہم پر عظیم ترین واجب اللہ تعالی کی توحید ہے۔

س10: توحید کی قسمیں کیا کیا ہیں؟

ج- 1- توحید ربوبیت: اس سے مراد اس بات پر ایمان لانا ہے کہ اللہ تعالی ہی خالق، رازق، مالک اور تدبیر کرنے والا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔
2- توحید الوہیت: اس کے معنی ہیں صرف اللہ تعالی کی عبادت کرنے کے، چنانچہ اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کی جا سکتی۔
3- توحید اسما وصفات: اس کا مطلب اللہ تعالی کے ان تمام اسما وصفات پر ایمان لانا ہے جو قرآن وحدیث میں وارد ہوۓ ہیں بغیر کسی تمثیل، تشبیہ یا تعطیل کے۔
توحید کے تینوں اقسام کی دلیل یہ آیت ہے:
(آسمانوں کا، زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب وہی ہے تو اسی کی بندگی کر اور اس کی عبادت پر جم جا، کیا تیرے علم میں اس کا ہمنام ہم پلہ کوئی اور بھی ہے؟)۔ [سورۂ مریم: 65]۔

س11: سب سے بڑا گناہ کونسا ہے؟

ج- اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جس کے لئے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناه اور بہتان باندھا"۔ [سورۂ نساء: 48]

س12: شرک اور اس کی قسموں کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

شرک: اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کے لئے کسی بھی قسم کی بندگی بجا لانے کو کہتے ہیں۔
شرک کی قسمیں:
شرک اکبر: جیسے غیر اللہ کو پکارنا،غیر اللہ کو سجدہ کرنا یا غیر اللہ کے لیے ذبح کرنا۔
شرک اصغر:
جیسے غیر اللہ کی قسم کھانا، تعویذ وغیرہ جو حصول نفع یا دفع ضرر کے لیے لٹکائی جاتی ہے اور تھوڑی ریاکاری جیسے کسی کو دیکھ کر اچھی طرح نماز ادا کرنا۔

س13: کیا اللہ تعالی کے سوا کسی کو غیب کا علم ہے؟

ج- اللہ کے سوا غیب کوئی نہیں جانتا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(کہہ دیجئے کہ آسمانوں والوں میں سے زمین والوں میں سے سواۓ اللہ کے کوئی غیب نہیں جانتا، انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ کب اٹھا کھڑے کیے جائیں گے؟) (سورۂ نمل: 65)

س14- ایمان کے ارکان کیا کیا ہیں؟

ج- 1- اللہ تعالی پر ایمان۔
2- اس کے فرشتوں پر ایمان۔
3- اس کی کتابوں پر ایمان۔
4- اس کے رسولوں پر ایمان۔
5- یوم آخرت پر ایمان۔
6- بھلی اور بری تقدیر پر ایمان۔
ان کی دلیل صحیح مسلم میں مروى مشہور حدیث جبریل ہے، جبریل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: آپ مجھے ایمان کے بارے میں بتائیں، آپ نے فرمایا: ’’ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور اچھی وبری تقدیر پر ایمان لائے‘‘۔

س15: ایمان کے ارکان کی وضاحت کرو۔

ج- اللہ تعالی پر ایمان:
آپ اس بات پر ایمان لائیں کہ اللہ تعالی نے ہی آپ کو پیدا کیا ہے، روزی دی ہے اور وہی اکیلا تمام مخلوقات کا مالک اور مدبر ہے۔
وہی عبادت کے لائق ہے، کوئی اور نہیں۔
وہ عظیم ہے، بڑا ہے، ایساکامل ہے کہ ہر قسم کی تعریف اسی کے لیے لائق وزیبا ہے، اس کے بہترین نام اور عالی صفتیں ہیں، اس کا کوئی شریک نہیں اور کوئی اس کے جیسا نہیں، اس کی ذات پاکیزہ ہے۔
فرشتوں پر ایمان:

یہ اللہ کی مخلوقات ہیں جنہیں اللہ تعالی نے نور سے اپنی عبادت اور اپنے حکم کی مکمل تعمیل کے لیے پیدا کیا ہے۔
ان میں سے ایک فرشتہ جبریل علیہ السلام ہیں جو نبیوں کے پاس وحی لاتے ہیں۔
آسمانی کتابوں پر ایمان:
یہ وہ کتابیں ہیں جو اللہ تعالی نے اپنے رسولوں پر نازل کیں۔
جیسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل کیا۔
عیسی علیہ السلام پر انجیل۔
موسی علیہ السلام پر تورات۔
داود علیہ السلام پر زبور۔
صحف ابراہیم کو اہیم علیہ السلام پر اور صحف موسى کو موسی علیہ السلام پر۔
رسولوں پر ایمان:
یہ وہ ہستیاں ہیں جنہیں اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے پاس بھیجا تاکہ انہیں تعلیم دیں، بھلائی اور جنت کی خوشخبری سنائیں اور برائی اور جہنم سے ڈرائیں۔
ان میں سب سے افضل اولو العزم ہیں، اور وہ ہیں:
نوح علیہ السلام۔
ابراہیم علیہ السلام۔
موسی علیہ السلام۔
عیسی علیہ السلام۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔
آخرت کے دن پر ایمان:
اور یوم آخرت: موت کے بعد قبر کے اندر کی زندگی، قیامت کے دن اور قبروں سے اٹھاۓ جانے اور حساب وکتاب کے دن کو شامل ہے،جب جنتی اپنے محلوں میں اور جہنمی اپنے ٹھکانوں میں قرار پکڑیں گے۔
بھلی بری تقدیر پر ایمان:

تقدیر: اس بات کے اعتقاد کو کہتے ہیں کہ جو کچھ بھی کائنات میں وقوع پذیر ہوتا ہے اللہ تعالی کو اس کا علم ہے، اس نے اسے لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے، اس نے اس کے وجود میں آنے کو چاہا اور اسے پیدا کیا۔
فرمان باری تعالی ہے:
(بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک مقررہ وقت پر پیدا کیا ہے) [سورۃ القمر: 49]
تقدیر کے چار مراتب ہیں:
پہلا: اللہ تعالی کا علم، جس میں یہ شامل ہے کہ اللہ تعالی کو ہر چیز کے بارے میں پہلے سے ہی معلوم ہے، اس کے وقوع سے پہلے بھی اور اس کے وقوع کے بعد بھی۔
اس کی دلیل یہ فرمان الٰہی ہے:
"بے شک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے۔ کوئی (بھی) نہیں جانتا کہ کل کیا (کچھ) کرے گا؟ نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا۔ (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ ہی پورے علم واﻻ اور صحیح خبروں واﻻ ہے"۔ [سورۂ لقمان: 34]
دوسرا: کہ اللہ تعالی نے یہ سب لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے، چنانچہ جو کچھ بھی ہوتا ہے یا ہوگا سب اللہ کے یہاں تحریر شدہ ہے۔
اس کی دلیل یہ فرمان الٰہی ہے:
"اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں (خزانے) ان کو کوئی نہیں جانتا بجز اللہ کے۔ اور وه تمام چیزوں کو جانتا ہے جو کچھ خشکی میں ہیں اور جو کچھ سمندر میں ہیں اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وه اس کو بھی جانتا ہے اور کوئی دانہ زمین کے تاریک حصوں میں نہیں پڑتا اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز گرتی ہے مگر یہ سب کتاب مبین میں ہیں۔"[59] [ سورۂ أنعام: 59]
تیسرا: ہر چیز اللہ تعالی کی مشیت کے تابع ہے، جو کچھ بھی اس کی یا اس کی کسی مخلوق کی جانب سے صادر ہوتا ہے وہ اس کی مرضی سے ہی ہوتا ہے۔
اس کی دلیل یہ فرمان الٰہی ہے:
"اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی راه پر چلنا چاہےاور تم بغیر رب العالمین کے چاہے کچھ نہیں چاه سکتے"۔ [سورۂ تکویر: 28، 29]
چوتھا: پوری کائنات اللہ تعالی کی مخلوق ہے، اللہ تعالی نے انہیں، ان کی صفتوں اور حرکتوں کو اور ان میں موجود ہر شی کو پیدا کیا ہے۔
اس کی دلیل یہ فرمان الٰہی ہے:
(حاﻻنکہ تمہیں اور تمہاری بنائی ہوئی چیزوں کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے)۔[96] [سورۂ صافات: 96]۔

س16: قرآن کی تعریف کیا ہے؟

ج- قرآن اللہ تعالی کا کلام ہے، مخلوق نہیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
”اگر مشرکین میں سے کوئی تم سے پناہ چاہے تو اس کو پناہ دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے۔“ [سورۂ توبہ: 6]

س17: سنت کیا ہے؟

ج- سنت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول، فعل یا تقریر یا آپ کی شکل وصورت اور اخلاق سے متعلق باتوں کو کہا جاتا ہے۔

س18: بدعت کیا ہے اور کیا ہم اسے قبول کریں گے؟

ج- بدعت دین سے متعلق ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جو لوگوں نے ایجاد کر لی حالاں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کے دور میں موجود نہ تھی۔
ہم اسے قبول نہیں کرتے بلکہ رد کرتے ہیں۔
کیونکہ آپ علیہ الصلاۃ و السلام کا فرمان ہے:
ہر بدعت گمراہی ہے''۔ (سنن ابی داود)
بدعت کی مثال: عبادت میں زیادتی، جیسے وضو کرتے وقت کسی عضو کو چار بار دھونا، اور میلاد النبی کا جشن منانا، کیوں کہ یہ چیزیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ سے ثابت نہیں ہیں۔

س19: عقیدۂ ولاء وبراء کے بارے میں بتائیں۔

ج- ولاء کہتے ہیں: مومنوں سے محبت اور ان کی مدد کرنے کو۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (مومن مرد وعورت آپس میں ایک دوسرے کے (مددگار ومعاون اور) دوست ہیں)۔ [سورۂ توبہ: 71]
براء کا اطلاق کافروں سے نفرت وعداوت پر ہوتا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (تمہارے لیے حضرت ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، جبکہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بالکل بیزار ہیں، ہم تمہارے (عقائد کے) منکر ہیں جب تک تم اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہ لاؤ، ہم میں تم میں ہمیشہ کے لیے بغض وعداوت ظاہر ہو گئی) [سورۂ ممتحنہ: 4]

س20: کیا اللہ تعالی اسلام کے سوا کوئی دین قبول کرے گا؟

ج- اللہ تعالی اسلام کے سوا کوئی دین قبول نہیں کرے گا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جاۓ گا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا)۔ [سورۂ آل عمران: ٨٥]

س21: کفر قول، عمل اور اعتقاد تینوں چیزوں سے ہوتا ہے، اس کی مثال پیش کريں۔

ج- قول کی مثال: اللہ تعالی یا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہنا۔
عمل کی مثال: قرآن کی توہین یا غیر اللہ کو سجدہ کرنا۔
اعتقاد کی مثال: اس بات کا عقیدہ رکھنا کہ اللہ تعالی کے علاوہ بھی کوئی عبادت کے لائق ہے یا کوئی اور خالق بھی ہے۔

س22: نفاق کیا ہے اور اس کی قسمیں کیا کیا ہیں؟

ج-
1- نفاق اکبر: جو کہ دل میں کفر کو چھپانے اور ایمان کے ظاہر کرنے کو کہتے ہیں۔
اور یہ کفر اکبر ہے جس کے سبب انسان دائرہ اسلام سے نکل جاتا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (منافق تو یقینا جہنم کے سب سے نیچے کے طبقہ میں جائیں گے، ناممکن ہے کہ تو ان کا کوئى مددگار پالے)۔ [سورۂ نساء: ١٤٥]
2: نفاق اصغر:
جیسے دروغ گوئی، وعدہ خلافی اور خیانت۔
یہ گناہ ہے اور اس کا کرنے والا عذاب سے بھى دو چار ہو سکتا ہے لیکن اس سے انسان کافر نہیں ہوتا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کہے تو جھوٹ بولے‘ جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے)۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)

س23: خاتم الانبیا اور خاتم الرسل کون ہیں؟

ج- محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(لوگو، تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ نہیں لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول اورخاتم النبیین ہیں) [سورۂ احزاب: ٤٠] رسول اللہ ﷺ نے مزید فرمایا: میں خاتم النبیین (آخری نبی) ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں''۔ ابوداود اور ترمذی وغیرہ نے اس کی روایت کی ہے۔

س24: معجزہ کسے کہتے ہیں؟

ج- معجزہ: وہ خارق عادات چیزیں جو اللہ تعالی نے اپنے نبیوں کو ان کی سچائی ثابت کرنے کے لیے عطا کیں، جیسے:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چاند کے دو ٹکڑے کرنا۔
اور موسی علیہ السلام کی خاطر سمندر میں راستہ بنا دینا اور فرعون اور اس کے لاؤ لشکر کو غرق آب کرنا۔

س25: صحابہ کون ہیں اور کیا ہم ان سے محبت کرتے ہیں؟

ج- صحابی: وہ ہے جس نے ایمان کی حالت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور اسلام ہى پر جس کی موت ہوئی۔
ہمیں ان سے محبت ہے، ہم ان کی اقتدا کرتے ہیں اور وہ انبیا کے بعد افضل ترین ہستیاں ہیں۔
اور ان میں سب سے افضل خلفاۓ اربعہ:

ابو بکر رضی اللہ عنہ،
عمر رضی اللہ عنہ،
عثمان رضی اللہ عنہ،
اور علی رضی الله عنہ ہیں۔

س26: امہات المؤمنین کون ہیں؟

ج- وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ہیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(پیغمبر مومنوں پر خود ان سے بھی زیادہ حق رکھنے والے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں)۔ [سورۂ احزاب: ٦]

س27: آل بیت کا ہم پہ کیا حق ہے؟

ج- ہم ان سے محبت کریں، ان کے دشمنوں سے بغض رکھیں، ان کی شان میں غلو نہ کریں۔ آل بیت سے مراد: آپ کی ازواج مطہرات، اولاد، نیز بنی ہاشم اور بنی مطلب کے اہل ایمان ہیں۔

س28- مسلمان حاکموں کے تئیں ہمارا فرض کیا ہے؟

ج- ہم پرواجب ہے: ان کا احترام کرنا، معصیت کے سوا ہر چیز میں ان کی اطاعت کرنا، ان کے خلاف بغاوت نہ کرنا اور سری طور پر ان کے لیے خیر خواہی اور دعا کرنا۔

29- مومنوں کی جاۓ قرار کیا ہے؟

ج- جنت۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: (ایمان اور نیک اعمال والوں کو اللہ تعالی بہتی ہوئی نہروں والی جنتوں میں داخل کرے گا) [سورۂ محمد: 12]

س30: کافروں کا ٹھکانا کیا ہے؟

ج- جہنم۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: (تو اس آگ سے بچو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں جسے کافروں کے لئے تیار کیا گیا ہے)۔ [سورۂ بقرۃ : 24]

س31: دلیل کے ساتھ بتائیں خوف ورجا کیا ہے؟

ج- خوف: اللہ تعالی اور اس کی سزا سے ڈرنے کا نام ہے۔
رجا: اللہ تعالی کے ثواب، اس کی مغفرت اور رحمت کى امید رکھنے کو کہتے ہیں۔
اس کی دلیل یہ فرمان الٰہی ہے:
(جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں، خود وه اپنے رب کے تقرب کی جستجو میں رہتے ہیں کہ ان میں سے کون زیاده نزدیک ہوجائے، وه خود اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے خوف زده رہتے ہیں، بیشک تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہی ہے۔) [ سورۂ إسراء: 57] اسی طرح اللہ تبارک وتعالی کا ارشاد ہے: (میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت ہی بخشنے والا اور بڑا ہی مہربان ہوں، اور ساتھ ہی میرے عذاب بھی نہایت دردناک ہے)۔ [سورۂ حجر: 49، 50]

س32: اللہ تعالی کے چند اسما وصفات کا ذکر کریں۔

ج- اللہ، الرب، الرحمن، السمیع، البصیر، العلیم، الرزاق، الحی، العظیم۔ ۔ ۔ وغیرہ۔

س33- ان ناموں کی تشریح کریں۔

ج- اللہ: اس کے معنی ہیں معبود برحق کے جس کا کوئی شریک نہیں۔
الرب: یعنی خالق، مالک، رازق اور تدبیر کرنے والا۔
السمیع:
جو ہر ایک آواز کو سنتا ہے، جس کی بھی ہو جیسی بھی ہو۔
البصیر:
جو ہر چھوٹی بڑی چیز کو دیکھتا ہے۔
العلیم: جس کا علم ماضی، حال اور مستقبل کی ہر چیز کو محیط ہے۔
الرحمن:
جس کی رحمت ہر مخلوق اور ہر ذی روح کو شامل ہے، تمام بندے اور ساری مخلوقات اس کی رحمت کے سایہ میں ہیں۔
الرزاق:
انسانوں، جنوں اور تمام جانداروں کی روزی جس کے ذمہ ہے۔
الحی:
جسے کبھی موت نہیں آ سکتی، جبکہ ہر ذی روح کو مرنا ہی ہے۔
العظیم:
جو ہر طرح کی صفت کمال سے متصف ہے اور جس کے سارے نام، صفتیں اور تمام افعال اس کی عظمت پر دلالت کرتے ہیں۔

س28- مسلم علماء کے تئیں ہمارا فرض کیا ہے؟

ج- ہم ان سے محبت کریں، مسائل و شرعی نوازل میں ان کی طرف رجوع کریں اور ہمیشہ ان کا ذکر خیر کریں۔ جو ان کی برائی کرتا ہے وہ راہ راست سے بھٹکا ہوا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(اللہ تعالی تم میں سے ان لوگوں کے جو ایمان لاۓ ہیں اور جو علم دیے گئے ہیں درجہ بلند کر دے گا، اور اللہ تعالی ہر اس کام سے جو تم کرتے ہو خوب خبردار ہے)۔ [سورۂ مجادلہ: 11]

س35- اللہ تعالی کے ولی کون ہیں؟

ج- مومن اور متقی بندے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
”یاد رکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وه غمگین ہوتے ہیں، یہ وه لوگ ہیں جو ایمان ﻻئے اور برائیوں سے پرہیز رکھتے ہیں۔“ [سورۂ یونس: 62، 63]۔

س36: کیا ایمان صرف قول وعمل کا نام ہے؟

ج- ایمان قول، عمل اور اعتقاد کا مجموعہ ہے۔

س37: کیا ایمان میں کمی اور زیادتی ہوتی ہے؟

ج- ایمان اطاعت سے بڑھتا اور معصیت سے گھٹتا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے، تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں، تو وه آیتیں ان کے ایمان کو اور زیاده کردیتی ہیں اور وه لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔" [سورۂ أنفال: 2]

س38: احسان کیا ہے؟

”تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو کم از کم یہ کیفیت ضرور ہونی چاہیے کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔“

س39: عمل کب اللہ تعالی کے نزدیک مقبول ہوتا ہے؟

ج- دو شرطوں کے ساتھ:
1- جب وہ اللہ تعالی کے لئے خالص ہو۔
2- جب وہ سنت نبوی کے موافق ہو۔

س40: اللہ تعالی پر توکل کسے کہتے ہیں؟

ج- تحصیل منفعت اور دفع ضرر کے لیے اسباب اختیار کرتے ہوۓ اللہ تعالی پراعتماد کرنے کو توکل کہا جاتا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
”جو شخص اللہ پر توکل کرے گا، اللہ اسے کافی ہوگا“۔ [سورہ الطلاق آیت: 3]
حسبہ یعنی اسے کافی (ہوگا)۔

س41: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ کیا ہے؟

ج- اس کے معنی ہیں ہر اس کام کا حکم دینا جس میں اللہ کی اطاعت ہو اور ہر اس چیز سے روکنا جس میں اللہ تعالی کی نافرمانی ہو۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ تعالی پر ایمان رکھتے ہو)۔ [سورۂ آل عمران: ١١٠]

س42: اہل سنت والجماعت کون ہیں؟

ج- جو قول، عمل اور اعتقاد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کی موافقت کرتے ہیں۔
اور انہیں اہل سنت کہا جاتا ہے کیوں کہ یہ بدعت سے دامن کش ہو کر سنت نبوی کی پیروی کرتے ہیں۔
اور جماعت کہا جاتا ہے کیوں کہ یہ حق پر اکٹھے ہیں اور فرقہ بازی نہیں کرتے۔

فقہ47

س1: طہارت کی تعریف بتائیں۔

ج- طہارت کے معنی ہیں حدث کو دور کرنے اور نجاست سے پاکی حاصل کرنے کے۔
نجاست سے پاکی کا مطلب یہ ہے کہ جسم، کپڑے یا نماز پڑھنے کی جگہ میں اگر کوئی نجاست ہو تو مسلم اسے دور کرے۔
اور حدث کو دور کرنے سے وہ طہارت مراد ہے جو وضو یا غسل سے حاصل ہوتی ہے، اور اس طہارت کے لیے پاک پانی کا استعمال کرنا ہے یا اگر کسی کو پانی نہ ملے یا پانی کے استعمال میں دشواری ہو تو وہ تیمم کر سکتا ہے۔

س2: نجاست کیسے دور کرنا ہے؟

ج- پانی سے دھو کر۔
لیکن اگر کسی چیز میں کتا منہ ڈال دے تو اسے سات بار دھونا ہے، پہلی بار مٹی سے۔

س3: وضو کی فضیلت کیا ہے؟

ج- نبئ اکرم ﷺ کا ارشاد ہے : ”جب مسلمان بندہ یا مومن (یہ شک ہے راوی کا) وضو کرتا ہے اور منہ دھوتا ہے تو اس کے منہ سے وہ سب گناہ (صغیرہ) نکل جاتے ہیں جو اس نے آنکھوں سے کئے پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ (جو منہ سے گرتا ہے یہ بھی شک ہے راوی کا) پھر جب ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں میں سے ہر ایک گناہ جو ہاتھ سے کیا تھا پانی کے ساتھ یاپانی کے آخری قطرہ کے ساتھ نکل جاتا ہے، پھر جب پاؤں دھوتا ہے تو ہر ایک گناہ جس کو اس نے پاؤں سے چل کر کیا تھا پانی کے ساتھ یاپانی کے آخری قطرہ کے ساتھ نکل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ سارے گناہوں سے پاک صاف ہو کر نکلتا ہے۔“ (صحیح مسلم)

س4: آپ وضو کیسے کریں؟

ج- ہتھیلیوں کو تین بار دھوئیں۔
اور تین مرتبہ کلی کریں اور ناک میں پانی ڈال کر ناک صاف کریں۔
کلی کرنا:
یعنی منہ میں پانی ڈال کر اسے گھمانا اور باہر تھوکنا۔
ناک میں پانی ڈالنے کا طریقہ یہ ہے کہ داہنے ہاتھ میں پانی لے کر پانی کو ناک کے اندر کھینچیں۔
اور ناک صاف کرنے سے مراد ہے ناک کے اندر پانی کھینچنے کے بعد اسے ناک سے بائیں ہاتھ سے باہر نکالنا۔
پھرچہرے کو تین بار دھونا۔
پھر کہنیوں سمیت دونوں ہاتھوں کو تین بار دھونا۔
پھر سر کا اور کانوں کا مسح کرنا، سر کے مسح کے دوران ہاتھ کو سر کے آگے سے پیچھے اور پھر پیچھے سے آگے لانا ہے۔
پھر ٹخنوں کے ساتھ دونوں پیروں کو تین بار دھونا۔
یہ وضو کا اکمل طریقہ ہے جو بخاری اور مسلم کی کئی حدیثوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، عثمان اور عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہما وغیرہ ان احادیث کے راوی ہیں۔ اور بخاری وغیرہ میں یہ بھی ثابت ہے کہ "آپ نے اعضاۓ وضو کو ایک ایک بار دھویا، اور دو دو مرتبہ دھویا"۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ وضوء کے ہر عضو کو ایک ایک بار یا دو دو بار بھى دھو سکتا ہے۔

س5: وضو کے فرائض کیا اور کتنے ہیں؟

وضو کے فرائض وہ ہیں جن میں سے کوئی ایک فریضہ بھی اگر چھوڑ دیا جاۓ تو وضو صحیح نہیں ہوتا۔
1- چہرے کا دھونا‘ کلی اور ناک میں پانی ڈالنا بھی اسی میں شامل ہے۔
2- دونوں ہاتھوں کو کہنیوں کے ساتھ دھونا۔
3- سر کا مسح کرنا، اور کان اسی میں شامل ہیں۔
4- دونوں پاؤں کو ٹخنوں کے ساتھ دھونا۔
5- ترتیب، کہ پہلے چہرا دھوۓ پھر دونوں ہاتھ پھر سر کا مسح کرے پھر دونوں پیروں کو دھوۓ۔
6- تسلسل: یعنی دو اعضا کے دھونے کے بیچ اتنی تاخیر نہ ہو کہ پہلا سوکھ جاۓ۔
جیسے آدھا وضو کرکے رک جاۓ اور پھر کسی دوسرے وقت مکمل کرے تو یہ وضو صحیح نہیں ہوگا۔

س5: وضو کی سنتیں کیا اور کتنی ہیں؟

ج- وضو کی سنتیں: اس سے مقصود وہ کام ہیں کہ اگر انسان ان پر عمل کرے تو مزید اجر وثواب کا مستحق ہوگا اور اگر ترک کردے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور اس کا وضو صحیح ہوگا۔
1- (شروع میں) بسم اللہ کہنا۔
2- مسواک کرنا۔
3- ہتھیلیوں کو دھونا۔
4- انگلیوں کا خلال کرنا۔
5- دوسری اور تیسری بار اعضاۓ وضو کو دھونا۔
6- دائیں طرف سے شروع کرنا۔
7- وضو کے بعد یہ دعا کہنا: «أشْهَدُ أنْ لا إلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، وأشهدُ أنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ». (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اوراس کے رسول ہیں۔)
8- وضو کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا۔

س7: نواقض وضو (جن چیزوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے) کیا کیا ہیں؟

ج- پیشاب، پاخانہ یا ہوا جو اگلی یا پچھلی شرمگاہ سے نکلے۔
نیند، پاگل پن بے ہوشی۔
اونٹ کا گوشت کھانا۔
ہاتھ سے بلا کسی آڑ کے اگلی یا پچھلی شرمگاہ کو چھونا۔

س8: تیمم کیا ہے؟

ج- تیمم: پانی نہ ملنے یا اس کے استعمال میں دشواری ہونے پر مٹی یا زمین کی سطح کی چیزوں (پتھر اور ریت وغیرہ) کا استعمال کرنا۔

س9: تیمم کا طریقہ کیا ہے؟

ہتھیلیوں کو ایک بار مٹی پر مار کر چہرے اور ہتھیلیوں کے اوپری حصوں کا ایک مرتبہ مسح کرنا۔

س10: نواقض تیمم کیا کیا ہیں؟

ج- تمام نواقض وضو۔
اور جب پانی مل جاۓ (تب بھی تیمم ٹوٹ جاتا ہے)۔

س11: خف اور جورب کیا ہیں؟ اور کیا ان پر مسح کرنا درست ہے؟

ج- خف: چمڑے کے موزے۔
ج- جورب: چمڑے کے علاوہ دیگر چیزوں کے موزے۔
اور ان پر دھونے کی جگہ مسح کرنا درست ہے۔

س12: موزوں پر مسح کرنے کی حکمت کیا ہے؟

ج- بندوں کے لیے تخفیف اور آسانی بالخصوص سردی اور سفر کی حالت میں۔

موزوں پر مسح کی صحت کی شرائط کیا ہیں؟

ج- 1- موزے وضو کے بعد پہنے۔
2- موزے پاک ہوں، ناپاک موزوں پر مسح درست نہیں ہے۔
3- موزے سے پیر کا وہ حصہ ڈھک جاۓ جسے وضو کے دوران دھونا فرض ہے۔
4- مسح متعینہ مدت کے اندر کیا جاۓ جو کہ ایک دن اور ایک رات ہے مقیم کے لیے، اور تین دن اور تین راتیں ہیں مسافر کے لیے ہے۔

موزوں پر مسح کا طریقہ کیا ہے؟

موزوں پر مسح کا طریقہ یہ ہے کہ: ہاتھوں کی بھیگی اور کھلی ہوئی انگلیوں سے پیروں کی انگلیوں سے پنڈلیوں تک کا ایکا بار مسح کرے، دہرائے نہیں، دائیں پیر کا دائیں ہاتھ سے اور بائیں پیر کا بائیں ہاتھ سے۔

س15- کس چیز سے مسح ٹوٹ جاتا ہے؟

1- مسح کی متعینہ مدت کا گزر جانا، اس لیے مسح کی متعینہ مدت کے گزر جانے کے بعد موزوں پر مسح کرنا جائز نہیں, اور موزوں پر مسح کى کى شرعى مدت ایک دن اور ایک رات ہے مقیم کے لیے، اور تین دن اور تین راتیں ہیں مسافر کے لیے ہے۔
2- دونوں موزوں کو یا کسی ایک موزے کو اتار لینا، اگر کوئی شخص مسح کرنے کے بعد موزے یا ان میں سے کوئی ایک اتار دے تو ان پر مسح باطل ہے۔

س16: نماز کے معنی کیا ہیں؟

ج- نماز: مخصوص اقوال اور اعمال سے اللہ تعالی کی عبادت کرنے کا نام ہے، جو تکبیر سے شروع اور سلام پر ختم ہوتی ہے۔

س17: نماز کا حکم کیا ہے؟

ج- نماز ہر مسلمان پر فرض ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
بیشک نماز ایمان والوں پر پابندی وقت کے ساتھ فرض ہے۔ [سورۂ نساء: 103]

س18: نماز چھوڑنے کا حکم کیا ہے؟

ج- نماز چھوڑنا کفر ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
”ہمارے اور ان (کافروں) کے درمیان نماز کا فرق ہے تو جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا“
احمد، ترمذی وغیرہ۔

س19: رات اور دن میں ایک مسلمان پر کتنی نمازیں فرض ہیں؟ ہر نماز میں کتنی رکعتیں ہیں؟

ج- رات اور دن میں پانچ نمازیں ہیں۔ فجر: دو رکعت، ظہر: چار رکعت، عصر: چار رکعت، مغرب: تین رکعت اور عشا: چار رکعت۔

س20: نماز کی شرطیں کیا کیا ہیں؟

ج- 1- اسلام، لہذا کافر کی نماز درست نہ ہوگی۔
2- عقل؛ پاگل کی نماز نہیں ہوگی۔
3- تمییز؛ غیر تمیزدارچھوٹے بچہ کی نماز صحیح نہیں ہوگی۔
4- نیت۔
5- نماز کا وقت ہو جانا۔
6- ناپاکی دور کرکے طہارت حاصل کرنا۔
7- نجاست سے پاکی۔
8- شرم گاہ کی ستر پوشی۔
9۔ قبلہ کی جانب منہ کرنا۔

س21: نماز کے ارکان کتنے اور کیا کیا ہیں؟

ج- نماز کے ارکان چودہ ہیں:
1- فرض نماز میں قیام (کھڑے ہو کر نماز پڑھنا) اگر استطاعت ہو۔
2- تکبیر تحریمہ یعنی اللہ اکبر کہنا۔
سورۂ فاتحہ پڑھنا۔
رکوع کرنا۔ اور اس دوران پیٹھ سیدھی اور سر کو پیٹھ کے برابر رکھے گا۔
رکوع سے سر اٹھانا۔
سیدھے کھڑا ہونا۔
سجدہ کرنا اور پیشانی، ناک، ہتھیلی، گھٹنے اور قدموں کی انگلیوں کے سروں کو ڈھنگ سے سجدہ کی جگہ پہ رکھنا۔
سجدہ سے سر اٹھانا۔
دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا۔
اور سنت یہ ہے کہ بائیں پیر کو بچھا کر اس پر بیٹھے اور دائیں پیر کو کھڑا اور قبلہ رخ رکھے۔
اطمینان یعنی ہر فعلی رکن کو پورے سکون سے ادا کرنا۔
آخری تشہد۔
اس کے لیے بیٹھنا۔
دو مرتبہ ''السلام علیکم ورحمۃ اللہ'' کہنا۔
ارکان کو ترتیب سے انجام دینا، پس اگر جان بوجھ کر رکوع سے قبل سجدہ کرے تو نماز باطل ہو جاۓ گی اور اگر غلطی سے ایسا ہو جاۓ تو اسے واپس جا کر رکوع کرنا ہو گا پھر سجدہ کرے گا۔

نماز کے واجبات بیان کرو۔

ج- نماز کے واجبات آٹھ ہیں:
1- تکبیر تحریمہ کے سوا باقی تکبیریں۔
2- امام اور منفرد کا ''سمع اللہ لمن حمدہ'' کہنا۔
3- «ربنا ولك الحمد» کہنا۔
4- رکوع میں ایک بار «سبحان ربي العظيم» کہنا۔
5- سجدہ میں ایک بار «سبحان ربي الاعلی» کہنا۔
6- دونوں سجدوں کے درمیان «رب اغفر لي» کہنا۔
7- پہلا تشہد۔
8- پہلے تشہد کے لیے بیٹھنا۔

س23: نماز کی سنتیں کیا کیا ہیں؟

ج- گیارہ ہیں:
1- تکبیر تحریمہ کے بعد دعاۓ استفتاح پڑھنا، جیسے: "سبحانك اللهم وبحمدك، وتبارك اسمك، وتَعَالَىٰ جدك، ولا إله غيرك"۔
2- اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھنا۔
3- بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا۔
4- آمین کہنا۔
5- سورۂ فاتحۂ کے بعد کوئی سورت پڑھنا۔
6- امام کا جہری تلاوت کرنا۔
7- ''ربنا ولک الحمد'' کہنے کے بعد "ملء السَّمٰوات، وملء الأرض، وملء ما شئت من شيء بعد" کہنا۔
8- رکوع میں ایک مرتبہ سے زیادہ تسبیح پڑھنا۔ یعنی دوسری اور تیسری تسبیح یا اس سے بھی زیادہ۔
9- سجدہ میں ایک مرتبہ سے زیادہ تسبیح پڑھنا۔
10- دونوں سجدوں کے درمیان ایک مرتبہ سے زیادہ ''رب اغفر لی'' کہنا۔
11- آخری تشہد میں آل نبی پر درود بھیجنا، آپ کے اور آپ کى آل کے لیے برکت کی دعا کرنا اور اس کے بعد کی دعائیں۔
فعلی سنتیں، اور انہیں ہیئات (ہیئت وکیفیت) کہا جاتا ہے:
1- رفع الیدین (ہاتھوں کو اٹھانا) کرنا تکبیر تحریمہ کے ساتھ۔
2- اور رکوع کرتے وقت۔
3- رکوع سے سر اٹھاتے وقت۔
4- پھر ہاتھوں کا نیچے کرنا۔
75- دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا۔
6- سجدہ کی جگہ کو دیکھتے رہنا۔
7- قیام (کھڑے ہونے) کے دوران قدموں کے بیچ فاصلہ رکھنا۔
8- رکوع کرتے وقت کھلی انگلیوں کے ساتھ دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑنا، پیٹھ سیدھی رکھنا اور سر کو اس کے برابر رکھنا۔
9- اعضاۓ سجدہ کو اچھی طرح زمین پر رکھنا اور بلا کسی حائل کے سجدہ کی جگہ کو چھونا۔
10- بازؤں کو پہلؤں سے، پیٹ کو رانوں سے اور رانوں کو پنڈلیوں سے دور رکھنا۔ اور گھٹنوں کے درمیان فاصلہ رکھنا، قدموں کو کھڑا رکھنا، پیروں کی انگلیوں کے اندرونی حصوں کو زمین پر رکھنا اور ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اس طرح رکھنا کہ انگلیاں سٹی ہوئی ہوں۔
11- دونوں سجدوں کے درمیان اور تشہد اول میں بائیں پیر کو بچھا کر اس پر بیٹھنا اور دوسرے تشہد میں تورک کرنا۔
دونوں سجدوں کے درمیان ہاتھوں کو رانوں کے اوپر اس طرح بچھانا کہ انگلیاں سٹی ہوئی ہوں۔ اور تشہد میں بھی یہی کیفیت ہوگی لیکن دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں خنصر اور بنصر کو سمیٹ کر انگوٹھے اور بڑی انگلی کا حلقہ بناۓ گا اور اللہ کا ذکر آنے پر شہادت کی انگلی سے اشارہ کرے گا۔
13- دائیں اور بائیں مڑ کر سلام پھیرنا۔

س24: نماز کو باطل کرنے والی چیزیں کیا کیا ہیں؟

ج- (1) نماز کا کوئی رکن یا شرط ترک کرنا۔
(2) دانستہ بات کرنا۔
(3) کھانا یا پینا۔
(4) مسلسل کثرت سے حرکت کرنا۔
(5) عمدا نماز کا کوئی واجب ترک کرنا۔

س25: ایک مسلمان کیسے نماز پڑھے گا؟

ج- طریقہ نماز کا بیان:
1- اپنے پورے جسم کے ساتھ قبلہ رخ ہو کر کھڑا ہو، نہ دائیں بائیں مڑے اور نہ ادھر ادھر دیکھے۔
2- پھر دل سے اس نماز کی نیت کرے جو وہ پڑھنے والا ہو، زبان سے نہیں۔
3- پھر (اللہ اکبر) کہتے ہوۓ دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھاۓ۔
4- پھر دائیں ہاتھ کو بائیں ہتھیلی پر سینہ کے اوپر رکھے۔
5- پھر یہ دعا پڑھے: ”اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنْ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ“
اے اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان ایسی دوری کر دے جیسی مشرق ومغرب کے درمیان تو نے دوری کی ہے، اے اللہ! مجھے خطاؤں سے اس طرح صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل سے صاف کیا جاتا ہے، اے اللہ! مجھے میری خطاؤں سے پانی، برف اور اولے سے دھو دے۔
یا یہ دعا پڑھے:
«سبحانك اللهم وبحمدك، وتبارك اسمك، وتَعَالَىٰ جدك، ولا إله غيرك» "اے اللہ! تو پاک ہے، تیرے لیے ہی تمام تعریف وتوصیف ہے، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان سب سے اونچی ہے اور تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے۔"
6- پھر کہے گا: «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم» میں شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ 7- پھر یوں سورۂ فاتحہ پڑھے گا: ﴿بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ} اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، جو بڑا مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے۔" {الْحَمْدُ للّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} " ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، جو سارے جہاں کا رب ہے۔ {الرَّحْمـنِ الرَّحِيمِ} بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} بدلہ کے دن کا مالک ہے۔ {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} ہم بس تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور بس تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں، {اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ} ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرما، {صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} ان لوگوں کا راستہ جن پر تونے انعام کیا ہے، نہ کہ ان لوگوں کا (راستہ) جن پر تیرا غضب نازل ہوا اور نہ ان کا جو گمراہ ہوئے۔ [سورۂ فاتحة:1-7]
پھر کہے گا: (آمین) یعنی اے اللہ قبول فرما۔
8- پھر جتنی ممکن ہو قرآن کی تلاوت کرے گا اور فجر کی نماز میں لمبی قرأت کرے گا۔
9- پھر رکوع کرے گا، یعنی اللہ تعالی کی تعظیم کے طور پہ اپنی پیٹھ کو جھکاۓ گا اور رکوع کرتے وقت کندھوں تک ہاتھوں کو اٹھاتے ہوۓ تکبیر کہے گا اور سنت یہ ہے کہ پیٹھ کو سیدھا رکھے، سر کو اس کے برابر رکھے اور کھلی انگلیوں کے ساتھ ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑے۔
10- اور رکوع میں تین مرتبہ ''سبحان ربی العظیم'' کہے گا اور اس کے ساتھ ''سبحانك اللهم وبحمدك، اللهم اغفر لي" بھی کہے تو یہ اچھی بات ہے۔
11- پھر «سمع الله لمن حمده» کہتے ہوۓ اور دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھاتے ہوۓ رکوع سے سر اٹھاۓ گا اور مقتدی صرف «ربنا ولك الحمد» کہے گا۔
اور سر اٹھانے کے بعد یہ دعا کہے گا: «ربنا ولك الحمد، ملء السماوات والأرض، وملء ما شئت من شيء بعد» اے اللہ ہمارے رب! تیرے ہی لیے تعریف وتوصیف ہے آسمان بھر، زمین بھر اور ان کے علاوہ جو تو چاہے اس کی وسعت بھر۔
13- پھر ''اللہ اکبر'' کہتے ہوۓ پہلا سجدہ کرے گا اور سات اعضا پہ سجدہ کرے گا: پیشانی، ناک (یہ دونوں مل کر ایک)، ہتھیلیاں، گھٹنے اور پیروں کے کنارے، اور بازؤں کو پہلؤں سے دور رکھے گا، ہاتھوں کو زمین پر نہیں بچھاۓ گا اور انگلیوں کو قبلہ رخ رکھے گا۔
14- اور سجدہ میں تین مرتبہ ''سبحان ربی الاعلی'' کہے گا اور اس کے ساتھ ''سبحانك اللهم ربنا وبحمدك اللهم اغفر لي" بھی کہے تو یہ اچھی بات ہے۔
15- پھر اللہ اکبر کہتے ہوۓ سجدہ سے سر اٹھاۓ گا۔
16- پھر دونوں سجدوں کے درمیان بائیں پیر پر بیٹھے گا اور دایاں پیر کھڑا رکھے گا اور دایاں ہاتھ دائیں ران کے کنارے پر رکھ کر خنصر اور بنصر دو انگلیوں کو سمیٹ لے گا اور شہادت کی انگلی کو اٹھا کر حرکت دیتے ہوۓ دعا کرے گا اور انگوٹھے اور بڑی انگلی کا حلقہ بناۓ گا، اور بائیں ہاتھ کو بائیں ران کے اوپر بچھا کر رکھے گا۔
17- اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھ کر یہ دعا پڑھے گا: «رب اغفر لي، وارحمني، واهدني، وارزقني، واجبرني، وعافني» "اے ہمارے رب! میرى مغفرت فرما دے، مجھ پر رحم کر، مجھے ہدایت دے، مجھے روزی عطا کر، اور میری ضرورت پوری کر اور مجھے عافیت دے"
18- پھر تکبیر کہتے ہوۓ دوسرے سجدہ میں جاۓ گا اور پہلے سجدہ ہی کے انداز میں یہ سجدہ مکمل کرے گا۔
19- پھر ''اللہ اکبر'' کہتے ہوۓ دوسرے سجدہ سے اٹھے گا اور دوسری رکعت بھی پہلی رکعت ہی کی طرح ادا کرے گا مگر اس میں دعاۓ استفتاح نہیں پڑھے گا۔
20- دوسری رکعت مکمل کرکے ''اللہ اکبر'' کہتے ہوۓ (سجدہ سے اٹھ کر بیٹھے گا) جیسے دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھتا ہے۔
21- اور تشہد کی یہ دعا پڑھے گا: "ساری حمد وثنا، تمام عبادتیں اور دعائیں اور تمام پاکیزہ اقوال واعمال اللہ کے لئے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکت نازل ہو، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد (ﷺ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اے اللہ! تو محمد اور آل محمد پر رحمت نازل فرما، جس طرح تو نے ابراہیم اور ان کی آل پر رحمت نازل فرمائی ہے، تو حمد و ستائش کے لائق ہے اور عظمت والا ہے، اے اللہ! تو محمد اور آل محمد پر برکت نازل فرما، جس طرح تونے ابراہیم اور ان کی آل پر برکت نازل فرمائی ہے، تو حمد و ستائش کے لائق ہے اور عظمت والا ہے۔" پھر دنیا وآخرت کی بھلائی پانے کے لیے جو دعا چاہے پڑھ سکتا ہے۔
22- پھر دائیں اور بائیں ''السلام علیکم ورحمۃ اللہ'' کہتے ہوۓ سلام پھیرے گا۔
23- اور جب نماز دو رکعت یا تین رکعت والی ہو تو پہلے تشہد میں «أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله» کہہ کر رک جاۓ گا۔
24- پھر ''اللہ اکبر'' کہتے ہوۓ ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے ہوۓ کھڑا ہو گا۔
25- پھر باقی نماز دوسری رکعت کی صفت پر ادا کرے گا لیکن صرف سورۂ فاتحہ پڑھے گا۔
26- آخری تشہد میں تورک کرے گا چنانچہ دائیں پیر کو کھڑا رکھے گا اور بائیں پیر کو دائیں پنڈلی کے نیچے سے نکال کر اچھی طرح زمین پر بیٹھے گا اور پہلے تشہد ہی کی طرح ہاتھوں کو رانوں پہ رکھے گا۔
27- اور اس بیٹھک میں پورا تشہد پڑھے گا (جن کا ذکر اوپر دو رکعت والی نماز کے بیان میں گزرا)
28- پھر دائیں اور بائیں ''السلام علیکم ورحمۃ اللہ'' کہتے ہوۓ سلام پھیرے گا۔

س26: سلام کے بعد آپ کون سے اذکار پڑھیں؟

ج- تین مرتبہ ''استغفر اللہ''۔ ’’میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔‘‘
- «اللّهُـمَّ أَنْـتَ السَّلامُ، وَمِـنْكَ السَّلام، تَبارَكْتَ يا ذا الجَـلالِ وَالإِكْـرام».’’اے اللہ ! تو ہی سلامتی والا ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی ہے، تو بہت با برکت ہے اے بڑی شان اور عزت والے!۔‘‘ [90]
- «لا إلهَ إلاّ اللّهُ وحدَهُ لا شريكَ لهُ، لهُ المُـلْكُ ولهُ الحَمْد، وهوَ على كلّ شَيءٍ قَدير، اللّهُـمَّ لا مانِعَ لِما أَعْطَـيْت، وَلا مُعْطِـيَ لِما مَنَـعْت، وَلا يَنْفَـعُ ذا الجَـدِّ مِنْـكَ الجَـد».
’’اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے سب تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔ اے اللہ ! اس چیز کو کوئی روکنے والا نہیں جو تو عطا کرے اور جس چیز کو تو روک لے، اس کو کوئی دینے والا نہیں اور کسی صاحبِ حیثیت کو اس کی حیثیت تیرے ہاں فائدہ نہیں دے سکتی۔‘‘
- «لا إلهَ إلاّ الله، وحدَهُ لا شريكَ لهُ، لهُ الملكُ ولهُ الحَمد، وهوَ على كلّ شيءٍ قدير، لا حَـوْلَ وَلا قـوَّةَ إِلاّ بِاللهِ، لا إلهَ إلاّ الله، وَلا نَعْـبُـدُ إِلاّ إيّـاه، لَهُ النِّعْـمَةُ وَلَهُ الفَضْل وَلَهُ الثَّـناءُ الحَـسَن، لا إلهَ إلاّ الله مخْلِصـينَ لَـهُ الدِّينَ وَلَوْ كَـرِهَ الكـافِرون».
’’اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے،اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے سب تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے، برائی سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ کی توفیق ہی سے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں،اسی کی طرف سے نعمت ہے اور اسی کى طرف سے فضل ہے اور اسی کے لیے بہترین ثنا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، ہم اسی کے لیے بندگی کو خالص کرنے والے ہیں، خواہ کافر (اسے) ناگوار سمجھیں۔‘‘.
تینتیس بار «سُـبْحانَ اللهِ»۔
تینتیس بار «الحمد اللهِ»۔
تینتیس بار « اللهِ اکبر»۔
پھر یہ دعا کہہ کر سو کی گنتی پوری کریں گے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير».
"اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے،اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں۔ وہی زندہ کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔"
فجر اور مغرب کے بعد سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس تین مرتبہ اور دیگر نمازوں کے بعد ایک مرتبہ پڑھیں گے۔
اور ایک مرتبہ آیۃ الکرسی پڑھیں گے۔

س27: سنن رواتب کتنی ہیں اور ان کی فضیلت کیا ہے؟

ج- فجر سے پہلے دو رکعتیں۔
ظہر سے پہلے چار رکعتیں۔
ظہر کے بعد دو رکعتیں۔
مغرب کے بعد دو رکعتیں۔
عشا کے بعد دو رکعتیں۔
ان کی فضیلت کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو دن اور رات میں بارہ رکعت نفل پڑھے گا اللہ تعالی اس کے لیے جنت میں ایک گھر بناۓ گا''۔ (مسلم اور احمد وغیرہ نے اسے روایت کیا ہے)

س28- ہفتہ کا افضل ترین دن کون سا ہے؟

ج- جمعہ کا دن, نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے : تمہارے افضل ترین دنوں میں سے جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی، اسی دن ان کی موت ہوئی، اسی دن صور پھونکا جاۓ گا اور اسی دن لوگ بے ہوش ہوں گے، پس تم اس دن مجھ پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجا کرو کیوں کہ تمہارا درود میرے پاس پہنچایا جاۓ گا''۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول، ہمارا درود آپ کے پاس کیسے پہنچایا جاۓ گا جبکہ آپ کا جسم مٹی میں شامل ہو چکا ہوگا؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالی نے انبیا کے جسموں کو مٹی کے اوپر حرام کر دیا ہے''۔ ابوداؤد اور احمد نے اس کی روایت کی ہے۔

س29: نماز جمعہ کا حکم کیا ہے؟

ج- نماز جمعہ ہر مسلم، عاقل، بالغ اور مقیم شخص پر فرض ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(اے وہ لوگو جو ایمان لاۓ ہو، جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جاۓ تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید وفروخت چھوڑ دو، یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو)۔ [سورۂ جمعہ: 9]

س30: نماز جمعہ کتنی رکعت ہے؟

ج- نماز جمعہ دو رکعت ہے، جس میں امام جہری تلاوت کرتا ہے اور ان دو رکعت سے پہلے دو معروف خطبے ہوتے ہیں۔

س31: کیا نماز جمعہ چھوڑنا جائز ہے؟

بغیر کسی شرعی عذر کے جائز نہیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے: ”جو شخص سستی وکاہلی میں تین جمعہ چھوڑ دے اللہ تعالی اس کے دل پر مہر کر دیتا ہے“۔ ابوداود وغیرہ نے اس کی روایت کی ہے۔

س32: جمعہ کے دن کی سنتیں گنائیں؟

ج-
1- غسل کرنا۔
2- خوشبو لگانا۔
3- سب سے اچھا لباس زیب تن کرنا۔
4- مسجد جلدی پہنچنا۔
5- نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بکثرت درود بھیجنا۔
٦- سورۂ کہف کی تلاوت کرنا۔
7- پیدل مسجد جانا۔
8- دعا کى قبولیت کے وقت کی تلاش میں لگنا۔

س33: نماز باجماعت کی فضیلت بیان کریں۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: باجماعت نماز منفرد (اکیلے ) کی نماز سے ستائیس (27) درجے زیادہ افضل ہے''۔ [صحیح مسلم]

س34: نماز میں خشوع سے کیا مراد ہے؟

یہاں خشوع سے مراد: نماز کے اندر دل کى یکسوئی اور اعضاء وجوارح کے سکون واطمینان کا نام ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (یقینا ایمان والوں نے فلاح حاصل کرلی۔ جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں)۔ [سورۂ مؤمنون: 1-2]۔

س35: زکوۃ کی تعریف بتائیں۔

ج- زکوۃ مخصوص وقت میں مخصوص مال میں مخصوص لوگوں کے واجب حق کا نام ہے۔
زکوۃ دین اسلام کا ایک اہم رکن ہے، یہ ایک واجب صدقہ ہے جو مالداروں سے لے کر غریبوں کو دیا جاتا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"اور زکوۃ دو۔" [سورۂ بقرۃ : 43]

س36: مستحب صدقہ کیا ہے؟

ج- زکوۃ کے سوا ہر صدقہ، جیسے کسی بھی وقت خیر کی راہوں میں کچھ صدقہ کرنا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو)۔ [سورۂ بقرۃ : 195]

س37: صیام (روزہ) کی تعریف بتائیں۔

صیام (روزہ): طلوع فجر سے غروب آفتاب تک نیت کے ساتھ مفطرات (جن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاۓ) سے باز رہ کر اللہ کى عبادت کرنا۔ اور اس کی دو قسمیں ہیں:
واجب صیام: جیسے رمضان کے روزے جو کہ دین اسلام کا ایک رکن ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ والے ہوجاؤ۔} [سورۃ البقرۃ : 183]
مسنون صیام: جیسے سوموار، جمعرات اور ہر مہینے میں تین دن کے روزے۔ اور ہر مہینے کے افضل ترین روزے ایام بیض یعنی ہر چاند کی 13، 14 اور 15 تاریخ کے روزے ہیں۔

س38: رمضان کے روزوں کی فضیلت بیان کریں۔

4- جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایمان اور اجر کی نیت کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے گا اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ گناہوں کو بخش دے گا۔ صحیح بخاری وصحیح مسلم۔

س 39:نفل روزے کی فضیلت بیان کریں۔

ج- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالی کی راہ میں ایک دن کا بھی روزہ رکھتا ہے اللہ تعالی اس ایک دن کے روزے کى بدولت اس کے چہرے کو جہنم کی آگ سے ستر سال کی مسافت کے بقدر دور کر دیتا ہے''۔ صحیح بخاری وصحیح مسلم۔
مذکورہ حدیث میں وارد لفظ «سبعين خريفًا» کا معنى 70 سال ہے۔

س40: چند ایسی باتوں کا ذکر کریں جن سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے۔

ج- 1-دانستہ کھانا پینا۔
2- بالقصد قے کرنا۔
3- مرتد ہو جانا۔

س41- روزے کی سنتیں کیا کیا ہیں؟

ج- 1- افطار میں جلدی کرنا۔
2- سحری کھانا اور اس میں تاخیر کرنا۔
3- بکثرت نیک اعمال اور عبادتیں انجام دینا۔
4- کوئی برا بھلا کہے تو یہ کہنا کہ میں روزے سے ہوں۔
5- افطار کے وقت دعا کرنا۔
6- گیلى کھجور یا سوکھی کھجور سے افطار کرنا لیکن اگر یہ میسر نہ ہو تو پانی سے روزہ کھولنا۔

س42: حج کسے کہتے ہیں؟

ج- حج: مخصوص وقت میں عبادت کی غرض سے مخصوص اعمال انجام دینے کے لیے بیت اللہ کا قصد کرنا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اور الله کا لوگوں پر یہ حق ہے کہ جو بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، وہ اس کا حج کرے، اور جو کوئی اس حکم کی پیروی سے انکار کرے، تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔} [سورۂ آل عمران: 97]

س43: حج کے ارکان کیا کیا ہیں؟

ج- 1- احرام باندھنا۔
2- وقوفِ عرفہ۔
3- طواف افاضہ۔
4- صفا ومروہ کے مابین سعی کرنا۔

س44: حج کی فضیلت کیا ہے؟

4- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوۓ سنا: ’’جس شخص نے حج کیا اور اس نے (اس دوران) جماع اور مقدمات جماع كا ارتکاب نہیں کیا اور نہ گناہ کا کام کیا تو وہ (حج کے بعد گناہوں سے پاک ہو کر اپنے گھر اس طرح) لوٹتا ہے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا‘‘۔ بخاری وغیرہ نے اسے روایت کیا ہے۔
(اس دن کی طرح جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا) کا مطلب ہے: گناہوں سے پاک ہو کر۔

س45: عمرہ کسے کہتے ہیں؟

ج- عمرہ: کسی بھی وقت عبادت کی غرض سے مخصوص اعمال انجام دینے کے لیے بیت اللہ کا قصد کرنا۔

س46: عمرہ کے ارکان کیا کیا ہیں؟

ج- 1- احرام باندھنا۔
2- طواف کرنا۔
3- صفااور مروہ کے مابین سعی کرنا۔

س47: اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہوتا ہے؟

ج- جہاد: اسلام کی نشر واشاعت اور اسلام اور مسلمانوں کے دفاع کے لیے ہر طرح کی کوشش اور محنت کرنا یا اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں سے جنگ کرنا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (اور راہ الہی میں اپنے مال وجان سے جہاد کرو، یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم میں علم ہو)۔ [سورۂ توبہ: 41]

سیرت نبوی32

س1: ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب نامہ بیان کریں۔

ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم صلی اللہ علیہ و سلم ہیں، ہاشم کا تعلق قریش سے تھا اور قریش ایک عرب قبیلہ تھا اور عرب خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام کے صاحبزادے اسماعیل علیہالسلام کی نسل سے ہیں، ان پر اور ہمارے نبی پر درود و سلام ہو۔

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امی کا نام کیا ہے؟

ج- آمنہ بنت وہب۔

س3: آپ کے والد کی وفات کب ہوئی؟

آپ اپنی ماں کے پیٹ ہی میں تھے جب آپ کے والد کا انتقال ہو گیا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کب پیدا ہوۓ؟

عام الفیل میں ربیع الاول کے مہینے میں سوموار کے دن پیدا ہوۓ۔

س5: آپ کی ولادت کس شہر میں ہوئی؟

ج- مکہ میں۔

س6: آپ کی والدہ کے علاوہ کن خواتین نے آپ کو دودھ پلایا اور آپ کی پرورش کی؟

ج- ام ایمن نے، جو آپ کے والد کی آزاد کردہ لونڈی تھیں۔
ثویبہ نے، جو آپ کے چچا ابو لہب کی آزاد کردہ لونڈی تھیں۔
اور حلیمہ سعدیہ نے۔

س7: آپ کی والدہ کی وفات کب ہوئی؟

ج- جب آپ کی عمر فقط چھ سال تھی، اس کے بعد آپ کے دادا عبد المطلب نے آپ کو پال پوس کر بڑا کیا۔

س8: آپ کے دادا عبد المطلب کی وفات کے بعد کس نے آپ کی پرورش کی؟

آٹھ سال کی عمر میں آپ کے داد عبد المطلب کا بھی انتقال ہو گیا، تو آپ کے چچا ابو طالب نے آپ کی دیکھ بھال کی۔

س9: کب آپ نے اپنے چچا کے ساتھ ملک شام کی طرف سفر کیا؟

ج- جب آپ بارہ سال کے تھے تو آپ نے اپنے چچا کے ساتھ ملک شام کی طرف سفر کیا۔

س10: آپ نے دوسرا سفر کب کیا؟

آپ کا دوسرا سفر خدیجہ رضی اللہ عنہ کے مال کو لے کر تجارت کی غرض سے تھا، اس سفر سے واپسى پر آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی، اس وقت آپ کی عمر پچیس سال تھی۔

س11: قریش نے کب خانۂ کعبہ کی از سر نو تعمیر کی؟

ج- جب آپ کی عمر پینتیس سال تھی۔
اس دوران حجر اسود کو نصب کرنے کے تعلق سے قریش میں نااتفاقی ہوئی تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فیصل منتخب کیا اور وہ چار قبیلوں پر مشتمل تھے، آپ نے حجر اسود کو ایک کپڑے میں رکھا اور چاروں قبائل میں سے ہر ایک قبیلہ کو کپڑے کا کنارہ پکڑنے کا حکم دیا۔ جب ان لوگوں نے حجر اسود کو اٹھاکر اس کى جگہ تک پہونچادیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر اپنے ہاتھوں سے اس کى جگہ میں نصب کردیا۔

بعثت کے وقت آپ کی عمر کیا تھی؟ اور کن کی طرف آپ کو بھیجا گیا؟

ج- بعثت کے وقت آپ کی عمر چالیس سال تھی اور آپ کو تمام لوگوں کی طرف بشیر ونذیر بنا کر بھیجا گیا۔

س13: وحی کی شروعات کس چیز سے ہوئی؟

ج- سچے خواب سے،آپ جو بھی خواب دیکھتے وہ صبح روشن کی طرح سچ ہو جاتا۔

س14: وحی سے پہلے آپ کی حالت کیا تھی؟ اور آپ پر پہلی وحی کب نازل ہوئی؟

ج- وحی نازل ہونے سے پہلے آپ غار حرا میں اللہ کی عبادت کرتے اور اپنے ساتھ کھانے پینے کا کچھ سامان رکھ لیتے۔
اور آپ غار میں عبادت میں مصروف تھے جب آپ پر وحی نازل ہوئی۔

س15: سب سے پہلے قرآن کا کون سا حصہ آپ پر نازل ہوا؟

ج- اللہ تعالی کا یہ فرمان: (اپنے رب کے نام سے پڑھ جس نے پیدا کیا جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ آپ پڑھتے رہیں آپ کا رب بڑے کرم والا ہے جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا جس نے انسان کو وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا) [سورۂ علق:1-5]۔

س16: سب سے پہلےکون آپ کی رسالت پر ایمان لایا؟

ج- مردوں میں: ابو بکر، خواتین میں: خدیجہ بنت خویلد، بچوں میں: علی بن ابی طالب، آزاد کردہ غلاموں میں: زید بن حارثہ اور غلاموں میں بلال حبشی وغیرہ رضی اللہ عنہم۔

اسلام کی دعوت کیسے شروع ہوئی؟

ج- تقریبا تین سال تک خفیہ طور پر دعوت جاری رہی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جہری دعوت کا حکم دیا گیا۔

س18: جہری دعوت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے ساتھ کیا ہوا؟

ج- مشرکوں نے مسلمانوں پر ظلم وستم کے اتنے پہاڑ ڈھاۓ کہ انہیں نجاشی کے یہاں پناہ لینے کے لیے حبشہ کی طرف ہجرت کی اجازت دے دی گئی۔
اور سارے مشرکین مکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کے دشمن بن گئے لیکن اللہ تعالی نے آپ کی حفاظت کی اور آپ کے چچا ابو طالب کو آپ کا حامی بنا دیا۔

س19: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے دسویں سال کس کی وفات ہوئی؟

ج- آپ کے چچا ابو طالب اور آپ کی زوجۂ محترمہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی۔

س20: اسرا ومعراج کا واقعہ کب پیش آیا تھا؟

ج- جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پچاس سال ہوئی تو یہ واقعہ پیش آیا اور آپ کے اوپر پانچ نمازیں فرض کی گئیں۔
اسرا:
اس سے مقصود مسجد حرام سے مسجد اقصی تک رات میں آپ کا سفر کرنا ہے۔
اور معراج سے مقصود ہے: مسجد اقصی سے آسمان تک پھر سدرۃالمنتہی تک کا آپ کا سفر۔

س21: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے باہر کیسے دعوت کا فریضہ انجام دیتے تھے؟

ج- آپ طائف والوں کو دعوت دیتے، حج کے موقعہ پر اور دیگر اوقات میں لوگوں کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتے یہاں تک کہ مدینہ کے انصار سے آپ کی ملاقات ہوئی، وہ آپ پر ایمان لاۓ اور آپ کی نصرت ومدد کرنے پر آپ سے بیعت کی۔

س22: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کتنے دنوں تک مکہ میں دعوت دیتے رہے؟

ج- تیرہ سال تک۔

س23: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کس شہر کی طرف ہجرت کی؟

ج- مکہ سے مدینہ کی طرف۔

س24: مدینہ میں کتنے سال رہے؟

ج- دس سال۔

س25: مدینہ میں اسلام کے کون سے احکام فرض کیے گئے؟

ج- زکوۃ، روزہ، حج، جہاد اور اذان وغیرہ۔

س26: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہم غزوات (وہ جنگیں جن میں آپ بنفس نفیس شریک رہے) کون سی ہیں؟

ج- غزوۂ بدر کبری۔
غزوۂ احد۔
غزوۂ خندق۔
فتح مکہ۔

س27: سب سے اخیر میں قرآن کا کون سا حصہ نازل ہوا؟

۱- اللہ تعالی کا یہ فرمان: (اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ کی طرف لوٹاۓ جاؤگے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جاۓ گا اور ان پہ ظلم نہیں کیا جاۓ گا)۔ [سورۂ بقرۃ : 281]

س28: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کب ہوئی؟ اور اس وقت آپ کی عمر کیا تھی؟

ج- ربیع الاول سن گیارہ ہجری میں آپ کى وفات ہوئى۔ اس وقت آپ کی عمر ترسٹھ سال تھی۔

س29: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کا ذکر کریں۔

ج- 1- خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا۔
2- سودہ بنت زمعہ -رضی اللہ عنہا-
3- عائشہ بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہا
4- حفصہ بنت عمر -رضی اللہ عنہا-
5- زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا۔
6- ام سلمہ ہند بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا۔
7- ام حبیبہ رملہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا۔
8- جويریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا۔
9- میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا
10- صفیہ بنت حُيی رضی اللہ عنہا
11- زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا۔

س30: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کون کون ہیں؟

ج- تین بیٹے:
قاسم، اور ان ہى کے نام سے آپ کی کنیت (ابو القاسم) تھی۔
عبد اللہ
اور ابراہیم۔
اور بیٹیاں:
فاطمہ۔
رقیہ۔
ام کلثوم۔
زینب۔
اور آپ کی تمام اولاد خدیجہ رضی اللہ عنہا سےتھی سواۓ ابراہیم کے، اور سب کی وفات آپ سے پہلے ہوئی سواۓ فاطمہ کے، ان کی وفات آپ کے چھ مہینے بعد ہوئی۔

س31: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک سے متعلق کچھ بیان کریں۔

ج- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ طویل القامت تھے اور نہ پستہ قد بلکہ آپ میانہ قد کے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ سفید سرخی مائل تھا، داڑھی گنجان تھی، آنکھیں کشادہ تھیں، دہن مبارک اعتدال کے ساتھ فراخ تھا، بال انتہائی سیاہ تھے، کشادہ کندھے والے تھے اور آپ کى خوشبو بڑی پیاری تھی وغیرہ وغیرہ۔

س31: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو کس راہ پر چھوڑ گئے؟

ج- نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو ایک ایسی روشن شاہراہ پر چھوڑ گئے جس کا دن اور رات یکساں ہیں، جو بھی اس سے بھٹکے گا برباد ہو جاۓ گا، ہر بھلائی کی طرف اپنی امت کی رہنمائی کی اور کوئی ایسی برائی نہیں جس سے انہیں ڈرایا نہ ہو۔

تفسیر17

س1: سورۂ فاتحہ پڑھیں اور اس کی تفسیر کریں۔

ج- سورۂ فاتحہ اور اس کی تفسیر:
﴿بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ للّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمـنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} سورۂ فاتحہ:1-7]
تفسیر:

یہ سورہ فاتحہ اس لئے کہلاتى ہے کہ اس سے قرآن کریم کا آغاز ہوتا ہے۔
🎧 1- (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ 1) "اللہ کے نام سے، اس سے مدد طلب کرتے ہوۓ اور اس کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوۓ قرآن کی تلاوت شروع کرتا ہوں"۔
(اللہ) یعنی معبود برحق اور یہ نام اللہ تعالی کے لیے خاص ہے کسی اور کو یہ نام نہیں دیا جاسکتا۔
(الرحمن) یعنی لامحدود اور بے پناہ رحمتوں والا، جس کی رحمت کے دائرے سے کوئی چیز باہر نہیں۔
(الرحیم) مومنوں پر رحم کرنے والا۔
🎧 2- (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ 2) "ہر قسم کی تعریف وتوصیف اللہ تعالی کے لیے ہے جو کہ رب العالمین ہے" ۔
🎧 3- (الرحمن الرحیم3) "ہر چیز پر رحم کرنے والا اور مومنوں پر بالخصوص رحم کرنے والا"۔
🎧 (مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ 4) "بدلہ کے دن (یعنی قیامت کے دن) کا مالک"۔
🎧 (إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ 5) یعنی" ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں"۔
🎧 (اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ 6)" ہمیں سیدھی راہ پر ثابت قدم رکھ" جو کہ اسلام اور سنت کی راہ ہے"۔
🎧 (صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ 7) "ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کی"، یعنی نبیوں اور ان کے متبعین کی راہ، یہود ونصاری کی نہیں۔
اور اس کے بعد (آمین) [یعنی اے اللہ قبول فرما] کہنا سنت ہے۔

س2: سورۂ زلزلہکی تلاوت کریں اور اس کی تفسیر بیان کریں۔

ج- سورۂ زلزلہ اور اس کی تفسیر:
﴿بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِمِ﴾ (شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے)۔
﴿إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا﴾(جب زمین پوری طرح جھنجھوڑ دی جائے گی)۔ ﴿وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا﴾ (اور اپنے بوجھ باہر نکال پھینکے گی)۔ ﴿وَقَالَ الْإِنْسَانُ مَا لَهَا﴾ (اور انسان کہنے لگے گا کہ اسے کیا ہوگیا؟) ﴿يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا ﴾ (اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کردے گی)۔ ﴿بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَى لَهَا ﴾ (اس لیے کہ تیرے رب نے اسے حکم دیا ہوگا)۔ ﴿يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتًا لِيُرَوْا أَعْمَالَهُمْ ﴾ (اس روز لوگ مختلف جماعتیں ہو کر (واپس) لوٹیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں)۔ ﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ﴾ (سو جو کوئی ذرہ بھر بھی نیکی کرے گا اسے دیکھ لے گا) ﴿وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ 8﴾ (اور جس کسی نے ذرہ بھر بھی بدی کی ہوگی اسے بھی دیکھ لے گا)۔ [سورۂ زلزلہ: 1-8]۔
تفسیر:
🎧 1- جب قیامت کے دن زمین پوری طرح ہلا دی جاۓ گی۔
🎧 2- اور زمین اپنے اندر موجود مردے وغیرہ کو نکال پھینکے گی۔
🎧 3- اور انسان حیرت زدہ ہو کر کہے گا کہ کیوں یہ زمین تھر تھرا رہی ہے اور حرکت پر حرکت کررہى ہے؟!
🎧 4- اس عظیم دن زمین بتائے گی کہ اس کے اوپر کیا بھلائی اور کیا برائی کی گئی۔
🎧 5- کیوں کہ اللہ تعالی اسے یہ باتیں بتلاۓ گا اور بتانے کا حکم دے گا۔
🎧 6- وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ 8 وہ ہولناک دن جب زمین میں زلزلہ بپا ہوجاۓ گا‘ لوگ حساب وکتاب کی جگہ سے جوق در جوق نکلیں گے تاکہ دنیا میں اپنے کیے ہوئے اعمال کا مشاہدہ کر سکیں۔
🎧 (فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ 7) جو چھوٹی سی چیونٹی کے برابر بھی نیکی کرے گا اسے اپنے سامنے دیکھے گا۔
🎧 (وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ 8) اور جو اتنی ہی برائی کرے گا اسے اپنے سامنے پاۓ گا۔

س3: سورۂ عادیات کی تلاوت کریں اور اس کی تفسیر بیان کریں۔

ج- سورۂ عادیات اور اس کی تفسیر:
﴿بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِمِ (شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے)۔
﴿وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا ﴾( ہانپتے ہوئے دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم!) ﴿فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا ﴾(پھر ٹاپ مار کر آگ جھاڑنے والے گھوڑوں کی قسم!) ﴿فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا ﴾ (پھر صبح کے وقت دھاوا بولنے والے گھوڑوں کی قسم) ﴿فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا ﴾ (پس اس وقت گرد وغبار اڑاتے ہیں) ﴿فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا ﴾ (پھر اسی کے ساتھ فوجیوں کے درمیان گھس جاتے ہیں). ﴿إِنَّ الْإِنْسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ ﴾ (یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے) ﴿وَإِنَّهُ عَلَى ذَلِكَ لَشَهِيدٌ ﴾ (اور یقیناً وه خود بھی اس پر گواه ہے) ﴿وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ ﴾ (یہ مال کی محبت میں بھی بڑا سخت ہے)۔ ﴿أَفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ ﴾ (کیا اسے وه وقت معلوم نہیں جب قبروں میں جو کچھ ہے نکال لیا جائے گا) ﴿وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ ﴾ (اور سینوں کی پوشیده باتیں ظاہر کر دی جائیں گی) ﴿إِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَخَبِيرٌ﴾ (بیشک ان کا رب اس دن ان کے حال سے پورا باخبر ہوگا)۔ [سورۂ عاديات: ١ - ١١]
تفسیر:
🎧 (1) اللہ تعالی نے ان گھوڑوں کی قسم کھائی ہے جو اتنی تیزی سے دوڑتے ہیں کہ ان کے ہانپنے کی آواز سنائی دیتی ہے۔
🎧 (2) نیز ان گھوڑوں کی قسم کھائی ہے جو اتنے زور سے پتھروں پر ٹاپ مارتے ہیں کہ چنگاری نکل آتی ہے۔
🎧 (3) اور ان گھوڑوں کی قسم کھائی ہے جو صبح دم دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں۔
🎧 (4) اور ان کے دوڑنے کی وجہ سے گرد اڑتی ہے۔
🎧 (5) پس اپنے سواروں کے ساتھ دشمنوں کی صفوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔
🎧 (6) انسان اس خیر کو بڑا روکنے والا ہے جو اس کا رب اس سے چاہتا ہے۔
🎧 (7) اور وہ بذات خود اپنے خیر سے باز رہنے کا گواہ ہے اور اس بات کے واضح ہونے کى بنا پر اس کا انکار بھى نہیں کر سکتا۔
🎧 (8) اور دولت کی بے انتہا محبت میں وہ بخیلی کرتا ہے۔
🎧 (9) جب اللہ تعالی مردوں کو زندہ کرے گا اور حساب وکتاب اور جزا وسزا کے لیے انہیں زمین سے باہر نکالے گا تو کیا دنیاوی زندگی سے فریب کھانے والا یہ انسان یہ نہیں جان جاۓ گا کہ معاملہ ویسا نہیں تھا جیسا وہ گمان کرتا تھا۔
🎧 (10) اور نیت، اعتقاد یا جو کچھ بھی دلوں میں ہوگا وہ با ہر آ جاۓ گا۔
🎧 (11) اس دن ان کا رب ان کے حال سے پوری طرح باخبر ہوگا‘ اس سے بندوں کی کوئی بھی چیز مخفی نہیں ہوگی‘ اور اللہ تعالی انہیں اس کا بدلہ دے گا۔

س4: سورۂ قارعہ کی تلاوت کریں اور اس کی تفسیر بیان کریں۔

ج- سورۂ قارعہ اور اس کی تفسیر:
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
(کھڑکھڑا دینے والی۔ کیا ہے وه کھڑکھڑا دینے والی۔ آپ کو کیا معلوم کہ وہ کھڑکھڑا دینے والی کیا ہے۔ جس دن انسان بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہو جائیں گے۔ اور پہاڑ دھنے ہوئے رنگین اون کی طرح ہو جائیں گے۔ پھر جس کے پلڑے بھاری ہوں گے۔ وه تو دل پسند آرام کی زندگی میں ہوگا۔ اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے۔ اس کا ٹھکانا ہاویہ ہے۔ آپ کو کیا معلوم کہ وہ کیا ہے۔ وه تند وتیز آگ ہے)۔ [سورۂ قارعہ: 1-11]۔
تفسیر:
🎧 (1) قیامت جو اپنی سخت ہولناکی کے سبب دلوں کا سکون چھین لے گی۔
🎧 (2) کیا ہے یہ قیامت جو اپنی سخت ہولناکی کے سبب دلوں کا سکون چھین لے گی؟
🎧 (3) اے رسول! آپ کو کس نے بتایا کہ وہ قیامت کیا ہے قیامت جو اپنی سخت ہولناکی کے سبب دلوں کا سکون چھین لے گی؟ یقینا وہ قیامت کا دن ہے۔
🎧 (4) جو دن لوگوں کے دلوں کو خوف میں مبتلا کردے گا اس دن لوگوں کی حالت بکھرے ہوۓ پروانو کی سی ہو گی۔
🎧 (5) اور پہاڑ دھنے ہوۓ اون کی طرح بے وزن اور ہلکے ہوکر چل رہے ہوں گے۔
🎧 (6) تو جس کے نیک اعمال اس کے برے اعمال سے زیادہ ہوں گے۔
🎧 (7) وہ جنت میں خوشی کی زندگی گزارے گا۔
🎧 (8) اور جس کے برےاعمال اس کے نیک اعمال سے زیادہ ہوں گے۔
🎧 (9) تو بروز قیامت اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔
🎧 (10) اے اللہ کے رسول، آپ کو کیا معلوم وہ کیا ہے؟
🎧 (11) وہ بڑی تیز آگ ہے۔

س2: سورۂ تکاثر کی تلاوت کریں اور اس کی تفسیر بیان کریں۔

ج- سورۂ تکاثر اور اس کی تفسیر:
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
(زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کردیا۔ یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے۔ ہرگز نہیں تم عنقریب معلوم کر لو گے۔ ہرگز نہیں پھر تمہیں جلد علم ہو جائے گا۔ ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو۔ بیشک تم جہنم دیکھ لو گے۔ اور تم اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے۔ پھر اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہوگا)۔ [سورۂ تکاثر: 1-8]
تفسیر:
🎧 (1) اے لوگو! مال ودولت اور آل واولاد پر فخر ومباہات نے تم کو اطاعت الہی سے غافل کردیا ہے۔
🎧 (2) یہاں تک کہ تمہیں موت آگئی اور تم قبروں کے اندر چلے گئے۔
🎧 (3) تمہیں یہ سزاوار نہیں کہ فخر ومباہات تمہیں اطاعت الہی سے غافل کیے رکھے‘ عنقریب تم اس غفلت کا برا انجام دیکھ لوگے۔
🎧 (4) پھر عنقریب تم اس غفلت کا برا انجام دیکھ لوگے۔
🎧 (5) حقیقت میں اگر تم یقینی طور پر جان لیتے کہ تمہیں دوبارہ زندہ ہوکر اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور وہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا‘ تو تم مال ودولت اور آل واولاد پر فخر ومباہات کرنے میں مشغول نہ رہتے۔
🎧 (6) اللہ کی قسم تم ضرور قیامت کے دن جہنم دیکھو گے۔
🎧 (7) تم ضرور قیامت کے دن یقینی طور پر جہنم دیکھو گے
🎧 (8) پھر اس دن اللہ تعالی تم سے ضرور ان نعمتوں کے متعلق سوال کرے گا جو اس نے تمہیں صحت اور دولت وغیرہ کی شکل میں عطا کی تھیں۔

س2: سورۂ عصر کی تلاوت کریں اور اس کی تفسیر بیان کریں۔

ج- سورۂ عصر اور اس کی تفسیر:
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
(زمانے کی قسم! بے شک انسان سرتا سر نقصان میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے، جو ایمان ﻻئے، نیک عمل کیے اور (جنھوں نے) آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی)۔ [سورۂ عصر: 1-3]
تفسیر:
🎧 1- اللہ تعالی نے وقت کی قسم کھائی۔
🎧 2- کہ سارے انسان نقصان اور ہلاکت میں ہیں۔
🎧 3- لیکن جو ایمان لاۓ، نیک اعمال کیے اور حق کی طرف بلایا اور اس راہ میں صبر کیا وہ خسارہ میں نہیں ہیں۔

س2: سورۂ ہمزہ کی تلاوت کریں اور اس کی تفسیر بیان کریں۔

ج- سورۂ ہمزہ اور اس کی تفسیر:
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
(بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کی جو عیب ٹٹولنے واﻻ غیبت کرنے واﻻ ہو. جو مال کو جمع کرتا جائے اور گنتا جائے۔ وه سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس سدا رہے گا۔ ہرگز نہیں یہ تو ضرور توڑ پھوڑ دینے والی آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ اور تجھے کیا معلوم کہ ایسی آگ کیا ہوگی؟ وه اللہ تعالیٰ کی سلگائی ہوئی آگ ہوگی۔ جو دلوں پر چڑھتی چلی جائے گی۔ وہ ان پر ہر طرف سے بند کی ہوئی ہوگی۔ بڑے بڑے ستونوں میں)۔ [سورۂ همزة: ١ - ٩]
تفسیر:
🎧 1- خرابی اور سخت عذاب ہے ہر اس شخص کے لیے جو غیبت اور عیب جوئی میں لگا رہے۔
🎧 2- جس کا واحد مقصد ہے مال جمع کرنا اور اسے گن گن کے رکھنا اس کے سوا اس کا کوئى بھى مقصد نہیں۔
🎧 2- وہ اس گمان میں رہتا ہے کہ جو مال وہ جمع کر رہا ہے‘ وہ اسے موت سے بچا لے گا اور وہ دنیا میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔
🎧 (4) حقیقت ایسی نہیں جیسا یہ نادان تصور کرتا ہے‘ بلکہ اسے جہنم کی اس آگ میں پھینکا جائے گا جس کا عذاب اتنا سخت ہوگا کہ ہر چیز کو توڑ مروڑ کر رکھ دے گا۔
🎧 5- اے رسول، آپ کو کیا معلوم کہ ایسی آگ کیا ہے جو اپنے ڈالى گئى ہر چیز کو توڑ ڈالے گى؟
🎧 6- بے شک یہ اللہ تعالی کی سلگتی ہوئی آگ ہے۔
🎧 7- جو سینے کو چیر کر دلوں تک پہنچ جاۓ گی۔
🎧 8- اور یہ ہر طرف سے بند ہوگی۔
🎧 9- بڑے لمبے ستونوں سے (جن سے جہنم کے دروازے بند کیے جائیں گے) تاکہ وہ نکل نہ پائیں۔

س3: سورۂ فیل کی تلاوت کریں اور اس کی تفسیر بیان کریں۔

ج- سورۂ فیل اور اس کی تفسیر:
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
(کیا تو نے نہ دیکھا کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ کیا ان کے مکر کو بےکار نہیں کردیا؟ اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیئے۔ جو انہیں مٹی اور پتھر کی کنکریاں مار رہے تھے۔ پس انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کردیا)۔ [سورۂ فیل: 1-5]
تفسیر:
🎧 1- اے پیغمبر، کیا آپ کو علم نہیں ہوا آپ کے رب نے ابرہہ اور اس کے لاؤ لشکر کے ساتھ کیا کیا جب وہ کعبہ کو مسمار کرنے کے لیے آۓ تھے۔
🎧 2- اللہ نے کعبہ کو منہدم کرنے کی ناپاک کوشش کو ناکام کردیا‘ چنانچہ نہ ان کی یہ آرزو پوری ہوئی کہ لوگوں کو کعبہ سے پھیر دیں‘ اور نہ ہی کعبہ کو کوئی نقصان پہنچا سکے۔
🎧 3- اور ان کے اوپر ایسے پرندوں کو بھیج دیا جو جھنڈ کے جھنڈ ان کے پاس آرہےتھے۔
🎧 4- جو انہیں کنکریوں سے مار رہے تھے۔
🎧 5- پس اللہ نے انہیں ان پتوں کی طرح بنا دیا جنہیں جانوروں نے روند ڈالا ہو اور کھا لیا ہو۔

س4: سورۂ قریش کی تلاوت کریں اور اس کی تفسیر بیان کریں۔

ج- سورۂ قریش اور اس کی تفسیر:
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
(قریش کے مانوس کرنے کے لئے۔ (یعنی) انہیں جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کے لئے۔ (اس کے شکریہ میں)۔ انہیں چاہئے کہ اسی گھر کے رب کی عبادت کرتے رہیں۔ جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا اور ڈر (اور خوف) میں امن (وامان) دیا)۔ [سورۂ قریش: 1-4]
تفسیر:
🎧 1- اس سے مراد سردی اور گرمی کا وہ سفر ہے جس سے وہ مانوس تھے۔
🎧 2- یعنی سردی میں یمن اور گرمی میں شام کا پر امن سفر
🎧 3- انہیں صرف بیت اللہ کے رب کی عبادت کرنی چاہئے‘ جس نے ان کے لیے یہ سفر میسر فرمایا اور انہیں اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہیں ٹھہرانا چاہئے۔
🎧 4- جس نے انہیں بھوک کے بدلے کھانا اور خوف کے بدلے امن وامان دیا اور وہ اس طرح کہ عرب کے دلوں میں حرم اور وہاں کے رہنے والوں کی تعظیم ڈال دی۔

س2: سورۂ ماعون کی تلاوت کریں اور اس کی تفسیر بیان کریں۔

ج- سورۂ ماعون اور اس کی تفسیر:
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
(کیا تو نے (اسے بھی) دیکھا جو (روز) جزا کو جھٹلاتا ہے؟ یہی وه ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ اور مسکینوں کے کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔ سو بڑی خرابی ہے ایسے نمازیوں کے لیے، جو اپنی نماز سے غافل ہیں جو ریاکاری کرتے ہیں اور برتنے کی چیز روکتے ہیں)۔ [سورۂ ماعون: 1-7]
تفسیر:
🎧 1- کیا آپ نے اسے پہچانا جو قیامت کے دن کے بدلہ کو جھٹلاتا ہے۔
🎧 2- یہی یتیم کو اس کی ضرورت پوری کرنے کے بجاۓ نہایت بے دردی کے ساتھ دھکے دیتا ہے۔
🎧 3- اور نہ خود غریبوں کو کھانا کھلاتا ہے اور نہ دوسروں کو اس کی ترغیب دیتا ہے۔
🎧 4- پس ان نمازیوں کے لیے عذاب اور ہلاکت ہے۔
🎧 5- جو اپنی نماز سے غافل ہوتے ہیں اور ان کا خیال نہیں کھتے یہاں تک کہ ان کا وقت نکل جاتا ہے۔
🎧 6- جن کے اعمال اور نماز میں ریاکاری ہوتی ہے، اخلاص نہیں ہوتا۔
🎧 7- اور ان چیزوں میں بھی لوگوں کی مدد نہیں کرتے جن میں انہیں کوئی نقصان نہیں ہوتا۔

س2: سورہ الکوثر کی تلاوت کریں اور اس کی تفسیر بیان کریں۔

ج- سورۂ کوثراور اس کی تفسیر:
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
(یقیناً ہم نے تجھے (حوض) کوﺛر (اور بہت کچھ) دیا ہے۔ پس تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔ یقیناً تیرا دشمن ہی ﻻوارث اور بے نام ونشان ہے)۔ [سورۂ کوثر: 1-3]
تفسیر:
🎧 (1) اے رسول! ہم نے آپ کو بہت سی بھلائیوں سے نوازا‘ ان میں کوثر نامی نہر بھی ہے جو جنت میں بہتی ہے۔
🎧 (2) اس لیے آپ اس نعمت پر اللہ کا شکر ادا کیجئے‘ صرف اسی کی عبادت کیجئے اور اسی کے لیے قربانی کیجئے‘ برخلاف مشرکوں کے جو کہ بتوں کے نام پر قربانی کرکے ان کی قربت حاصل کرتے ہیں۔
🎧 (3) سچ یہ ہے کہ آپ سے جو نفرت کرتا ہے وہی خیر وبھلائی سے محروم ہے اور اسے کوئی یاد نہیں کرتا اور کوئی یاد کرتا بھی ہے تو اس کی برائی ہی کرتا ہے۔

س2: سورۂ کافرون کی تلاوت کریں اور اس کی تفسیر بیان کریں۔

ج- سورۂ کافرون اور اس کی تفسیر:
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
(آپ کہہ دیجئے کہ اے کافرو! نہ میں عبادت کرتا ہوں اس کی جس کی تم عبادت کرتے ہو۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ اور نہ میں اس کی عبادت کروں گا جس کی تم عبادت کرتے ہو۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں۔ تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے)۔ [سورۂ كافرون: ١ - ٦]
تفسیر:
🎧 1- اے پیغمبر آپ کہہ دیں کہ اے اللہ کا انکار کرنے والو!
🎧 2- جن بتوں کی تم عبادت کرتے ہو ان کی میں کبھى عبادت نہیں کرسکتا نہ ابھى اور نہ ہی مستقبل میں۔
🎧 3- اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں یعنی اللہ تعالی کی۔
🎧 4- اور نہ میں تمہارے ان بتوں کی عبادت کروں گا۔
🎧 5- اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں یعنی اللہ تعالی کی۔
🎧 6- تمہارے لیے تمہارا یہ خود ساختہ دین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے جو اللہ تعالی نے مجھ پر نازل کیا ہے۔

س2: سورہ النصر کی تلاوت کریں اور اس کی تفسیر بیان کریں۔

ج- سورۂ نصر اور اس کی تفسیر:
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
(جب اللہ کی مدد اور فتح آپہنچے۔ اور آپ لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہوتے دیکھ لیں۔ تو اپنے رب کی تسبیح کرنے لگیں حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت کی دعا مانگیں، بے شک وه بڑا ہی توبہ قبول کرنے واﻻ ہے)۔ [سورۂ نصر: 1-3]
تفسیر:
🎧 1- اے رسول! جب آپ کے دین کو اللہ تعالی کی طرف سے نصرت اور غلبہ حاصل ہو جاۓ اور مکہ فتح ہو جاۓ۔
🎧 2- اور آپ لوگوں کو جماعت در جماعت اسلام میں داخل ہوتے ہوۓ دیکھ لیں۔
🎧 (٣) تو آپ جان لیں کہ یہ اس مشن کے اختتام کی علامت ہے جس کے لیے آپ کو مبعوث کیا گیا‘ اس لیے آپ اپنے رب کی تسبیح بیان کریں حمد کے ساتھ‘ نصرت وفتح کی نعمت پر شکرانے کے طور پر‘ اور اللہ سے مغفرت کی دعا کریں‘ یقینا وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے‘ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور انہیں اپنی مغفرت سے نوازتا ہے۔

س4: سورۂ مسد کی تلاوت کریں اور اس کی تفسیر بیان کریں۔

ج- سورۂ مسد اور اس کی تفسیر:
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
(ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وه (خود) ہلاک ہو گیا۔ نہ تو اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی۔ وه عنقریب بھڑکنے والی آگ میں جائے گا۔ اور اس کی بیوی بھی (جائے گی،) جو (جہنم میں) لکڑیاں ڈھونے والی (ہوگی)۔ اس کی گردن میں پوست کھجور کی بٹی ہوئی رسی ہوگی)۔ [سورۂ فیل: 1-5]
تفسیر:
🎧 1- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو لہب بن عبد المطب کے ہاتھ ٹوٹ جائیں یعنی اس کے عمل برباد ہو جائیں کیوں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچاتا تھا اور اس کی محنت رائیگاں گئی۔
🎧 2- اس کی دولت اور اس کی اولاد اس کے کسی کام نہیں آئی، نہ اسے نجات ملی اور نہ کوئی رحمت نصیب ہوئی۔
🎧 3- قیامت کے دن اسے دہکتی آگ میں ڈالا جاۓ گا جس کی گرمی سے وہ بدحال ہوگا۔
🎧 4- اس کی بیوی ام جمیل بھی جہنم میں جائے گی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں کانٹے ڈال کر آپ کو اذیت دیتی تھی۔
🎧 5- اس کی گردن میں مضبوط بٹی ہوئی رسی ڈال کر اسے جہنم کی طرف گھسیٹا جاۓ گا۔

س15: سورۂ اخلاص کی تلاوت کریں اور اس کی تفسیر بیان کریں۔

ج- سورۂ اخلاص اور اس کی تفسیر:
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِمِ
(آپ کہہ دیجیے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے، نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں)۔ [سورۂ إخلاص : 1-4].
تفسیر:

🎧 1- اے رسول آپ کہہ دیں کہ وہی اللہ تعالی ہے اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔
🎧 2- اللہ بے نیاز ہے اور سب کے اس کے محتاج ہیں یعنى مخلوقات کی ضرورتیں اس کی بارگاہ میں پیش کی جاتی ہیں۔
🎧 جس نے نہ کسی کو جنم دیا اور نہ اسے کسی نے جنم دیا‘ چنانچہ اس پروردگار کی نہ کوئی اولاد ہے نہ والد۔
🎧 4- اور اس کی مخلوقات میں کوئی اس کے جیسا نہیں۔

س16: سورۂ فلق کی تلاوت کریں اور اس کی تفسیر بیان کریں۔

ج- سورۂ فلق اور اس کی تفسیر:
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِمِ
(آپ کہہ دیجئے کہ میں صبح کے مالک کی پناہ لیتا ہوں۔ تمام مخلوقات کے شر سے۔ اور اندھیرا کرنے والی (رات) کے شر سے جب وہ چھا جائے۔ اور گره (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی)۔ اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وه حسد کرے)۔ [سورۂ فلق : 1-5]۔
تفسیر:
🎧 1- اے رسول! آپ کہ دیجئے کہ میں صبح کے رب کا سہارا لیتا ہوں اور اس کی پناہ میں آتا ہوں۔
🎧 ہر طرح کی موذی مخلوق سے۔
🎧 اور اللہ تعالی کی پناہ لیتا ہوں ان تمام اذیتوں سے جو جانوروں اور چوروں کی طرف سے رات کو ہو سکتی ہیں۔
🎧 اور اللہ کى پناہ میں آتا ہوں ان جادوگرنیوں کے شر سے بھى جو گرہوں میں پھونکتی ہیں۔
🎧 اور ہر اس انسان کے شر سے جو لوگوں سے نفرت کرتے اور حسد کرتے ہیں جب ان سے حسد کریں اور یہ تمنا کریں کہ ان کی نعمتیں چھن جائیں اور وہ تکلیف میں مبتلا ہو جائیں۔

س17: سورۂ ناس کی تلاوت کریں اور اس کی تفسیر بیان کریں۔

ج- سورۂ ناس اور اس کی تفسیر:
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِمِ
(آپ کہہ دیجیے کہ میں پناه میں آتا ہوں لوگوں کے رب کی۔ لوگوں کے مالک کی۔ لوگوں کے معبود کی۔ وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے۔ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ (خواه) وه جن میں سے ہو یا انسان میں سے)۔ [سورۂ ناس: 1-6]۔
تفسیر:
🎧 1- اے رسول! آپ کہ دیجئے کہ میں لوگوں کے رب کا سہارا لیتا ہوں اور اس کی پناہ میں آتا ہوں۔
🎧 2- جو تمام لوگوں کا مالک ہے‘ اپنی مشیت سے ان میں تصرف کرتا ہے‘ اس کے سوا ان کا کوئی مالک نہیں۔
🎧 3- جو لوگوں کا حقیقی معبود ہے اس کے سوا ان کا کوئی معبود برحق نہیں۔
🎧 اس شیطان کے شر سے جو لوگوں میں اپنا وسوسہ ڈالتا ہے۔
🎧 5- جو اپنے وسوسے کے ساتھ لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لیتا ہے۔
🎧 6- یہ وسوسہ ڈالنے والا انسانوں میں سے بھی ہو سکتا ہے اور جنوں میں سے بھی۔

قسم حدیث14

س1: حدیث "انما الاعمال بالنیات۔ ۔ ۔" پوری سنائیں اور اس سے مستنبط کچھ فوائد بتائیں۔

امیر المؤمنين ابو حفص عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: «إنما الأعمال بالنيات، وإنما لكل امرئ ما نوى، فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله؛ فهجرته إلى الله ورسوله، ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها، أو امرأة ينكحها؛ فهجرته إلى ما هاجر إليه» ”تمام اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیّت کی، چنانچہ جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ہی کی طرف ہوگی، اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لئے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے ہوگی جس کے لیےاس نے ہجرت کی ہو۔“ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ:
1- نماز، روزہ، حج غرضیکہ ہر عمل کے لیے نیت ضروری ہے۔
2- نیت کو اللہ کے لئے خالص کرنا ضروری ہے۔
حدیث نمبر (2)

س2: حديث «من أحدث في أمرنا هذا ...» کو پورا کریں اور اس کے کچھ فوائد بتائیں۔

ام المؤمنين ام عبداللہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: «من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه، فهو ردٌّ» جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ:
1- دین میں بدعت کى ممانعت۔
2- ایجاد کردہ اعمال مردود اور ناقابل قبول ہیں۔
حدیث نمبر (3)

س3: حديث (بينما نحن جلوس عند رسول الله ﷺ ...) کو پورا کریں اور اس کے کچھ فوائد بتائیں۔

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: "ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں ایک شخص آیااس کے کپڑے بہت سفید اور بال بہت کالے تھے، اس پر سفر کے آثار بھی نہیں دکھائی دے رہے تھے اور ہم میں سے کوئی اسے جانتا بھی نہیں تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کے پاس آ کر بیٹھا، اپنے گھٹنے کو آپ کے گھٹنے سے لگا لیا اور اپنی ہتھیلیاں آپ کی رانوں پر رکھیں، پھر کہا: اے محمد (صلی اللہ علیہ و سلم)! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور اگر اللہ کے گھر تک جانے کی استطاعت ہو تو اس کا حج کرو، وہ بولا: آپ نے سچ فرمایا، ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ آپ سے سوال کرتا ہے اور پھر خود ہی آپ کی تصدیق بھی کرتا ہے،پھر کہا: مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے؟ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا : ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور ہراچھی وبری تقدیر پر ایمان لاؤ، وہ بولا : آپ نے سچ فرمایا، اس نے کہا: مجھے احسان کے بارے میں بتائیے؟ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا : اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو تو وہ تو تمھیں دیکھ رہا ہے، وہ کہنے لگا: اب مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے؟ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا :جس سے سوال کیا جا رہا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، اس نے کہا: اچھا تو مجھے اس کی نشانیاں بتائیے؟ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا: (نشانیاں یہ ہیں کہ) لونڈی اپنی مالک کو جنے گی، تم دیکھو گے کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن، مفلس اور بکریاں چرانے والے بڑے بڑے محل تعمیر کریں گے اور ان پر فحر ومباہات کریں گے، اس کے بعد وہ چلا گیا، میں کچھ دیر تک ٹہرا رہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر ! کیا تم جانتے ہو کہ پوچھنے والا کون تھا ؟ میں نے کہا : اللہ اوراس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا : وہ جبریل (علیہ السلام) تھے، وہ تمھیں تمھارے دین کی باتیں سکھانے آئے تھے“۔ [صحیح مسلم]
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ:
1- اسلام کے پانچ ارکان ہیں:
’’لا الٰہ الّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کی گواہی۔
نماز قائم کرنا۔
زکوۃ دینا۔
رمضان کے روزے رکھنا۔
اور بیت اللہ کا حج کرنا۔
2- ایمان کے ارکان چھ ہیں:
اللہ تعالیٰ پر،
اس کے فرشتوں پر،
اس کی کتابوں پر،
اس کے رسولوں پر،
یوم آخرت پر
اور بھلی اور بری تقدیر پر ایمان لانا۔
3- احسان کا ذکر جوکہ ایک ہی رکن ہے، اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ اللہ کی اس طرح عبادت کریں گویا آپ اسے دیکھ رہے ہیں، اگر یہ تصور نہیں کرسکتے تو اتنا تو خیال ضرور رکھیں کہ وہ آپ کو دیکھ رہا ہے۔
4- قیامت کب ہوگی اللہ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
حدیث نمبر 4

س4: حدیث «أكمل المؤمنين إيماناً ...» پوری سنائیں اور اس سے مستنبط کچھ فوائد بتائیں۔

ج- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "أَكْمَلُ المُؤمِنِينَ إِيمَاناً أَحسَنُهُم خُلُقاً" ”مومنین میں سب سے کامل ایمان والا وہ شخص ہے جو اخلاق میں سب سے اچھا ہو۔“ اسے امام ترمذى نے روایت کیا ہے اور کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
اس حدیث سے مستنبط چند فوائد:
1- اچھے اخلاق کی ترغیب۔
2- کمال اخلاق کمال ایمان میں سے ہے۔
3:
ایمان میں کمی اور زیادتی ہوتی ہے۔
حدیث نمبر (5)

س5: حديث: «من حلف بغير الله ...» پوری کریں اور اس کے کچھ فوائد بتائیں۔

ج- ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من حلف بغير الله فقد كفر أو أشرك''۔ ”جس شخص نے غیر اللہ کی قسم کھائی تو اس نے کفر کیا یا شرک کیا۔“ اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ:
غیر اللہ کی قسم کھانا جائز نہیں۔
غیر اللہ کی قسم کھانا شرک اصغر ہے۔
حدیث نمبر (6)

س6: حديث: «لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه ...» پوری کریں اور اس کے کچھ فوائد بتائیں۔

ج- انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لا يؤمِنُ أحدُكم حتى أَكونَ أَحَبَّ إليه من والِدِه ووَلَدِه والناس أَجْمَعِين" ” تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والدین، اس کے بال بچوں اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔“ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)
فوائد:
1- نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تمام لوگوں سے زیادہ محبت کرنا واجب ہے۔
اور یہ کمال ایمان میں سے ہے۔
حدیث نمبر (7)

س7: حديث: «لا يؤمن أحدكم حتى يحب لأخيه ...» پوری کریں اور اس کے کچھ فوائد بتائیں۔

ج- انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لا يؤمن أحدكم؛ حتى يحب لأخيه ما يحب لنفسه» تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)
فوائد:
1- مومن کو چاہیے کہ جیسے خود کے لیے خیر کو پسند کرتا ہے اسی طرح اپنے مومن بھائیوں کے لیے بھی پسند کرے۔
اور یہ کمال ایمان میں سے ہے۔
حدیث نمبر (8)

س8: حدیث «والذي نفسي بيده! ...» پوری سنائیں اور اس سے مستنبط کچھ فوائد بتائیں۔

ج- ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «والذي نفسي بيده! إنها لتعدل تعدل ثلث القرآن» "اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یقینا یہ (سورۂ اخلاص) ایک تہائی قرآن کے مساوی ہے"۔ (صحیح بخاری)
فوائد:
1- سورۂ اخلاص کی فضیلت۔
2- سورۂ اخلاص ایک تہائی قرآن کے مساوی ہے۔
حدیث نمبر (9)

س9: حديث «لا حول ولا قوة إلا بالله ...» کو پورا کریں اور اس کے کچھ فوائد بتائیں۔

ج- ابو موسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لا حول ولا قوة إلا بالله كنز من كنوز الجنة» "لا حول ولا قوۃ الا باللہ جنت کا ایک خزانہ ہے"۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)
فوائد:
1- اس کلمہ کی فضیلت کہ یہ جنت کا ایک خزانہ ہے۔
بندہ کا اپنی طاقت وقوت کو بھلا کر صرف اللہ تعالی پر بھروسہ کرنا۔
حدیث نمبر (10)

س10: حديث «ألا إن في الجسد مضغة...» کو پورا کریں اور اس کے کچھ فوائد بتائیں۔

ج- نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوۓ سنا: ((ألا وإن في الجسدِ مُضغَةً: إذا صلَحَتْ صلَح الجسدُ كلُّه، وإذا فسَدَتْ فسَد الجسدُ كلُّه، ألا وهي القلبُ)) ”یاد رکھو! بے شک جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جب وہ صحیح سالم ہوتا ہے تو پورا جسم صحیح سالم ہوتا ہے اور جب وہ خراب وفاسد ہو جاتا ہے تو پورا جسم خراب وفاسد ہو جاتا ہے، سنو! وہ ٹکڑا دل ہے"۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)
فوائد:
1- اگر دل نیک ہو تو انسان کا ظاہر اور باطن دونوں درست ہوتے ہیں۔
2- دل کی نیکی اور صفائی پر توجہ دینا کیوں کہ اسی پر انسان کی صالحیت کا دار ومدار ہے۔
حدیث نمبر (11)

س11: حديث: «من كان آخر كلامه من الدنيا: لا إله إلا الله.» کو پورا کریں اور اس کے کچھ فوائد گنائیں۔

ج- معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من كان آخر كلامه: لا إله إلا الله؛ دخل الجنة» ’’جس کا آخری کلام لاالہ الا اللہ ہو گا ، وہ جنت میں داخل ہوگا‘‘۔ (سنن ابو داود)
فوائد:
(لا الہ الا اللہ) کی فضیلت کہ بندہ اس کے سبب جنت میں داخل ہوگا۔
2: اور ‏دنیا سے جدا ہوتے وقت آخری بات لا الہ الا اللہ ہونے کی فضیلت۔
حدیث نمبر (12)

س12: حديث «ليس المؤمن بالطعان، ولا اللعان ...» کو پورا کریں اور اس کے کچھ فوائد ذکر کریں۔

ج- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مومن طعن وتشنیع کرنے والا، بکثرت لعنت کرنے والا، فحاش اور بدگو نہیں ہوتا ہے۔ اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
فوائد:

1- ہر باطل اور بری بات سے ممانعت۔
2- زبان کے متعلق ایک مومن کى یہی صفت ہے۔
حدیث نمبر (13)

س13: حديث «من حسن إسلام المرء ...» پوری کریں اور اس کے کچھ فوائد بتائیں۔

ج- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کے حسن اسلام میں یہ شامل ہے کہ وہ اس چیز کو چھوڑ دے جس سے اسے کوئی سروکار نہیں۔“ یہ حدیث ترمذی وغیرہ نے روایت کی ہے۔
فوائد:
1- دوسروں کے دینی اور دنیاوی معاملات سے دور رہنا جن سے انسان کو کوئی وابستگی نہ ہو۔
2- ایسا کرنا انسان کے کمال اسلام میں شامل ہے۔
حدیث نمبر (14)

س14- حدیث «من قرأ حرفاً من كتاب الله...» کو پورا کریں اور اس کے چند فوائد گنائیں۔

ج- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص اللہ کی کتاب (قرآن) سے ایک حرف پڑھے تو اس کے لیے اس کے بدلے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی (کا اجر) اس جیسی دس نیکیوں کے برابر ہے، میں نہیں کہتا کہ آلٓم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے اور لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔‘‘ یہ حدیث امام ترمذی نے روایت کی ہے۔
فوائد:

1- تلاوت قرآن کی فضیلت۔
2- ہر حرف پر دس نیکیاں ملیں گی۔

اسلامی اخلاق وآداب26

س1: اللہ تعالی کے ساتھ ادب سے پیش آنے کا مطلب کیا ہے؟

ج- 1- اللہ تعالی کی تعظیم کرنا۔
2- صرف اللہ تعالی کی عبادت کرنا جس کا کوئی شریک نہیں۔
3- اس کی اطاعت کرنا۔
4- اس کی نافرمانی سے باز رہنا۔
5- اللہ تعالی کے فضل واحسان اور بے شمار نعمتوں پر اس کی حمد وثنا بیان کرنا اور اس کے تئیں اظہار تشکر کرنا۔
6- اللہ تعالی کے فیصلوں پر صبر کرنا۔

س1: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادب سے پیش آنے کا مطلب کیا ہے؟

ج- 1- آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور اقتدا کرنا۔
2- آپ کی اطاعت کرنا۔
3- آپ کی نافرمانی سے باز رہنا۔
4- جن چیزوں کی آپ نے خبر دی ہے ان کی تصدیق کرنا۔
5-بدعت سے دور رہنا اور سنت پر زیادتی نہ کرنا۔
6- خود سے اور تمام لوگوں سے بھی زیادہ آپ سے محبت کرنا۔
7- آپ کی تعظیم کرنا اور آپ کی اور آپ کی سنت کی تائید کرنا۔

س3: والدین کا ادب واحترام کیسے ہوگا؟

ج- 1- معصیت کے سوا دیگر چیزوں میں ان کا حکم ماننا۔
2- ان کی خدمت کرنا۔
3- انہیں سہارا دینا۔
4- ان کی حاجات پوری کرنا۔
5- ان کے لیے دعا کرنا۔
6- ان کے ساتھ ادب سے بات کرنا اور انہیں اف تک نہ کہنا اور یہ ادنی درجہ کی زبانی گستاخی ہے۔
7- ان سے مسکرا کر بات کرنا اور منہ نہ بسورنا۔
8- میں اپنی آواز والدین کی آواز سے اونچی نہیں کروں گا،میں ان کی بات دھیان سے سنوں گا، ،ان کی بات نہیں کاٹوں گا اور انہیں نام سے نہیں پکاروں گا بلکہ ابو امی کہہ کر پکاروں گا۔
9- ان کے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لے لوں گا۔
10- ان کے ہاتھ اور سر پر بوسہ دینا۔

س4: صلہ رحمی کیسے کروں؟

ج- 1- بھائی، بہن، چچا، پھوپھى، ماموں، خالہ اور باقی تمام رشتہ داروں سے ملاقات کرتے رہنا۔
2- زبان وعمل سے ان کے استھ اچھا سلوک کرنا اور ان کی مدد کرنا۔
3- ان سے رابطہ کرنا اور ان کا حال پوچھنا۔

س5: اپنے بھائیوں اور دوستوں کے ساتھ کیسے رہوں؟

ج- 1- صالحین کی صحبت اختیار کروں گا اور ان سے محبت کروں گا۔
2- برے لوگوں سے دور رہوں گا اور ان کى صحبت اخیتار نہیں کروں گا۔
3- اپنے دینى بھائیوں سے سلام و مصاحفہ کروں گا۔
4- جب وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت کروں گا اور ان کی شفایابی کی دعا کروں گا۔
5- چھینک آنے پر جب کوئی (الحمد للہ) کہے تو میں اس کے جواب میں (یرحمك الله) کہوں گا۔
6- کوئی دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کروں گا۔
7- اس کی خیرخواہی کروں گا۔
8- اس پرظلم ہو تو اس کی مدد کروں گا اور اسے ظلم کرنے سے روکوں گا۔
10- جو خود کے لیے پسند کروں گا وہ اس کے لیے بھی پسند کروں گا۔
11- ضرورت پڑے تو اس کا تعاون کروں گا۔
12- کسی بھی طرح اسے اذیت نہ دوں گا۔
13- اس کی رازداری کروں گا۔
14- نہ اسے گالی دوں گا، نہ اس کی برائی کروں گا، نہ اسے حقیر جانوں گا، نہ اس سے حسد کروں گا، نہ اس کی ٹوہ میں پڑوں گا اور نہ اسے فریب دوں گا۔

س6: آداب جوار کیا ہیں؟

ج- 1- پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کروں اور وقت پڑنے پر اس کی مدد کروں۔
2- عید یا شادی وغیرہ کی خوشی کے موقعہ پر اسے مبارکباد دوں۔
3- بیمار پڑے تو اس کی عیادت کروں اور مصیبت کے وقت اسے تسلی دوں۔
4- جو کھانا پکے اس میں سے جتنا ممکن ہو اسے پہنچاؤں۔
5- اسے قول و فعل سے کوئی تکلیف نہ دوں۔
6- اونچی آواز سے اسے پریشان نہ کروں، نہ اس کی ٹوہ میں پڑوں اور اس کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچے تو صبر کروں۔

س7: مہمان اور مہمان نوازی کے آداب کیا ہیں؟

ج- 1- جو دعوت دے اس کی دعوت قبول کروں۔
2- کسی سے ملاقات کرنا چاہوں تو اسے سے اجازت اور وقت لے لوں۔
3- داخل ہونے سے پہلے اجازت لے لوں۔
4- وقت پر پہنچوں۔
5- (اس کے) اہل خانہ سے نگاہ نیچی رکھوں۔
6- مسکراتے چہرے کے ساتھ مہمان کا استقبال کروں اور بہترین الفاظ میں اسے مرحبا کہوں۔
7- مہمان کو اچھی جگہ بٹھاؤں۔
8- عمدہ کھانا پیش کروں اور اس کی خوب مہمان نوازی کروں۔

س8: مرض اور مریضوں سے متعلق چند آداب ذکر کریں۔

ج- 1- جب جسم کے کسی حصہ میں درد ہو تو اپنا دایاں ہاتھ وہاں رکھ کر تین مرتبہ (بسم اللہ) کہوں اور سات مرتبہ یہ دعا پڑھوں: (أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد وأحاذر) یعنی "میں اللہ تعالی کے غلبہ اور اس کی قدرت کے وسیلہ سے ہر اس چیز کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں جو مجھے محسوس ہو رہی ہے یا جس کا مجھے ڈر ہے"۔
2- صبر کا دامن تھامتے ہوۓ اللہ تعالی کی تقدیر پر راضی رہوں۔
3- جلدی اپنے بیمار بھائی کی زیارت کو جاؤں، اس کے لیے دعا کروں اور زیادہ دیر اس کے پاس نہ ٹھہروں۔
4- میں خود اسے رقیہ کروں بغیر اس کے کہ وہ مجھ سے اس کا مطالبہ کرے ۔
5- اسے صبر ودعا اور نماز وطہارت کی وصیت کروں جس قدر اس کے لیے ممکن ہو۔
6- مریض کے لیے یہ دعا سات مرتبہ پڑھنی چاہیے: (أسأل الله العظيم رب العرش العظيم أن يشفيك)۔

س9: طلب علم کے آداب کے بارے میں بتائیں۔

ج- 1- نیت کو اللہ تعالی کے لئے خالص کرنا۔
2- علم کے بموجب عمل کروں۔
3- استاذ کا احترام کروں ان کی موجودگی میں بھی اور ان کی عدم موجودگی میں بھی۔
4- ان کے سامنے ادب سے بیٹھوں۔
5- ان کی باتوں پر پوری توجہ دوں اور درس کے دوران ان کی بات نہ کاٹوں۔
6- کچھ پوچھوں تو ادب کا لحاظ کروں۔
7- انہیں نام سے نہ پکاروں۔

س10: مجلس کے آداب کیا ہیں؟

ج- 1- مجلس میں بیٹھے لوگوں کو سلام کروں۔
2- جہاں جگہ ملے بیٹھ جاؤں، نہ کسی کو اٹھاؤں اور نہ بلا اجازت دو لوگوں کے بیچ بیٹھوں۔
3- دوسروں کو بیٹھنے کا موقعہ دوں۔
4- مجلس میں جو بات ہو رہی ہو اسے نہ کاٹوں۔
5- واپسی سے پہلے اجازت لوں اور سلام کروں۔
6- مجلس کے اختتہام پر کفارۃ المجلس کی دعا پڑھوں۔ «سُبْحانَكَ اللَّهُمَّ وبِحَمْدِكَ، أشْهَدُ أنْ لا إلهَ إلَّا أنتَ، أسْتَغْفِرُكَ وأتُوبُ إلَيكَ». (اے اللہ! پاک ہےتو اپنی تعریفوں سمیت۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی برحق معبود نہیں ہے، میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔)

س11: سونے کے آداب ذکر کریں۔

ج- 1- جلدی سوؤں۔
2- با وضو ہو کر سوؤں۔
3- پیٹ کے بل نہ سوؤں۔
4- دائیں کروٹ پر لیٹوں اور دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھوں۔
5- بستر جھاڑ کر صاف کرلوں۔
6- سونے سے پہلے کے اذکار پڑھوں، چنانچہ آیۃ الکرسی پڑھوں پھر سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس تین مرتبہ پڑھوں، (تینوں سورتوں کو پڑھنے کے بعد دوںوں ہتھیلیوں کو جمع کرکے ان میں پھونکوں اور دونوں ہاتھوں کو جسم پر پھیروں جہاں تک ممکن ہو اور یہ عمل تین مرتبہ کروں)۔ بعد ازاں یہ دعا پڑھوں: «باسمك اللهم أموت وأحيا». ’’تیرے ہی نام کے ساتھ اے اللہ ! میں مرتا اور زندہ ہوتا ہوں۔‘‘
7- فجر کی نماز کے لیے جاگوں۔
8- نیند سے بیدار ہونے کے بعد یہ دعا پڑھوں: «الحمد لله الذي أحيانا بعدما أماتنا وإليه النشور». ’’ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں زندہ کیا، بعد اس کے کہ اس نے ہمیں ماردیا تھا اور اسی کی طرف اٹھ کرجانا ہے۔‘‘

س12: کھانے پینے کے آداب؟

ج-
1- کھاتے پیتے وقت یہ نیت کروں کہ اس سے اللہ تعالی کی عبادت کرنے میں مدد ملے گی۔
2- کھانے سے پہلے دونوں ہاتھوں کو دھونا۔
3- شروع میں (بسم اللہ) کہوں، دائیں ہاتھ سے کھاؤں اور پلیٹ کا جو حصہ قریب ہو وہاں سے کھاؤں، نہ بیچ سے اور نہ دوسروں کے سامنے سے۔
4- جب (بسم اللہ) کہنا بھول جاؤں تو (بسم اللہ أوله وآخره) کہوں۔
5- جو کھانا میسر ہو اس پر راضی رہوں اور کھانے کی برائی نہ کروں، بلکہ پسند آۓ تو کھاؤں ورنہ چھوڑ دوں۔
6- چند ہی لقمے کھاؤں زیادہ نہیں۔
7- کھانے یا پینے کی چیز میں نہ پھونکوں بلکہ اسے ٹھنڈا ہونے تک چھوڑ دوں۔
8- دوسروں کے ساتھ کھانا کھاؤں، جیسے اہل خانہ یا مہمانوں کے ساتھ۔
9- بڑوں سے پہلے کھانا شروع نہ کروں۔
10- جو پینا ہو اسے (بسم اللہ) کہہ کر بیٹھ کر تین سانسوں میں پیؤں۔
11- کھانے سے فارغ ہو کر اللہ تعالی کی تعریف بیان کروں۔

س13: لباس کے آداب گنائیں۔

ج- 1- دائیں جانب سے کپڑا پہنوں اور اللہ تعالی کا شکر ادا کروں۔
2- کپڑا ٹخنہ کے نیچے نہ ہو۔
3- نہ مرد عورتوں کا لباس پہنیں اور نہ عورتیں مردوں کا۔
4- لباس میں کافروں یا فاسقوں کی مشابہت اختیار نہ کریں۔
5- (بسم اللہ) کہہ کر کپڑے اتاریں۔
6- جوتا پہنتے وقت دائیں پیر سے شروع کریں اور اتارتے وقت بائیں پیر سے۔

س14- سواری کے آداب ذکر کریں۔

ج- 1- (سفر شروع کرتے وقت) کہوں: «بسم الله، الحمد لله»، ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ﴾ "پاک ہے وہ ذات جس نے اسے (سواری کو) ہمارے تابع کردیا ورنہ ہم اسے قابو میں کرلینے والے نہیں تھے۔ ﴿وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَا﴾ اور بے شک ہم اپنے رب ہی کی طرف واپس جانے والے ہیں۔‘‘ [سورۂ زخرف: 13، 14].
2- کسی مسلمان سے ملوں تو سلام کروں۔

س15: راستے کے آداب بیان کریں۔

ج- 1- میانہ روی اور خاکساری کے ساتھ راستہ کے دائیں جانب چلوں۔
2- جس سے ملاقات ہو اسے سلام کہوں۔
3- نگاہ نیچی رکھوں، کسی کو اذیت نہ پہنچاؤں۔
4- بھلائی کا حکم دوں اور برائی سے روکوں۔
5- راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹاؤں۔

س16: گھر میں داخل ہونے اور گھر سے نکلنے کے آداب بیان کریں۔

ج- 1- نکلتے وقت پہلے بایاں پیر باہر رکھتے ہوۓ یہ دعا پڑھوں: «بسم اللہ، توكلت على الله لا حول ولا قوة إلا بالله، اللهم إني أعوذ بك أن أضل أو أُضل أو أَزل أو أُزل أو أَظلم أو أُظلم أو أَجهل أو يُجهل علي» "اللہ کے نام سے (نکلتا ہوں)، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا، اللہ کی مدد کے بغیر نہ کسی چیز سے بچنے کی طاقت ہے نہ کچھ کرنے کی قوت، اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتاہوں اس بات سے کہ گمراہ ہوجاؤں یا مجھے گمراہ کیا جائے یا پھسل جاؤں یا مجھے پھسلا یا جائے یا میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے یا میں کسی پرجہالت کروں یا کوئی مجھ پر جہالت کرے"۔ 2- گھر میں داخل ہوتے وقت یہ دعا کہتے ہوۓ پہلے دایاں پیر اندر رکھوں: «بسم الله ولجنا، وبسم الله خرجنا، وعلى ربنا توكلنا». "اللہ کے نام سے ہم داخل ہوۓ اور اللہ کے نام سے نکلے اور اپنے رب پر بھروسہ کیا"۔
3- داخل ہو کر پہلے مسواک کروں پھر گھر والوں کو سلام کروں۔

س17: قضاۓ حاجت کے آداب بتائیں۔

ج- 1- پہلے بایاں پیر اندر رکھوں۔
2- اندر جانے سے پہلے یہ دعا پڑھوں: «بسم الله، اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث». ’’اللہ کے نام کے ساتھ (داخل ہوتا ہوں) اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں خبیثوں اور خبیثنیوں سے۔‘‘
3- کوئی ایسی چیز لے کر اندر نہ جاؤں جس میں اللہ کا ذکر ہو۔
4- قضاۓ حاجت کے دوران پردہ کروں۔
5- قضاۓ حاجت کی جگہ میں بات نہ کروں۔
6- پیشاب یا پاخانہ کرتے وقت نہ قبلہ کی طرف پیٹھ کروں نہ چہرہ۔
7- صفائی کے لیے بایاں ہاتھ استعمال کروں اور دایاں ہاتھ استعمال نہ کروں۔
8- لوگوں کے راستے یا سایے میں قضاۓ حاجت نہ کروں۔
9- قضاۓ حاجت کے بعد ہاتھ دھو لوں۔
ج- 10- نکلتے وقت پہلے بایاں پیر باہر رکھتے ہوۓ کہوں: (غفرانك)۔

س18: مسجد کے آداب ذکر کریں۔

ج- 1- مسجد میں داخل ہوتے وقت پہلے دایاں پیر اندر رکھوں اور یہ دعا پڑھوں: «بسم الله، اللهم افتح لي أبواب رحمتك». اللہ کے نام سے (داخل ہوتا ہوں) اے اللہ، میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔
2- دو رکعت پڑھے بغیر نہ بیٹھوں۔
3- مصلیوں کے سامنے سے نہ گزروں، نہ مسجد میں گمشدہ کی تلاش کروں اور نہ خرید وفروخت کروں۔
4- مسجد سے نکلتے وقت پہلے بایاں پیر باہر رکھوں اور یہ دعا پڑھوں: «اللهم إني أسألك من فضلك». اے اللہ، میں تیرے فضل وکرم کا سوالی ہوں۔

س19: سلام کے آداب ذکر کریں:

ج- 1- جب کسی مسلمان سے ملاقات ہو تو سب سے پہلے سلام کرتے ہوۓ کہوں: (السلام عليكم ورحمة الله وبركاته) اور صرف ہاتھ سے اشارہ کرنے پر اکتفا نہ کروں۔
2- سلام کرتے وقت چہرے پر مسکان ہو۔
3- دائیں ہاتھ سے مصافحہ کروں۔
4- جب کوئی مجھے سلام کرے تو میں اسے اس سے اچھا سلام کروں یا انہیں الفاظ کو لوٹا دوں۔
5- کافر کو پہلے سلام نہ کروں اور جب وہ سلام کرے تو اسے ویسا ہی جواب دوں۔ (یعنی کہوں: وعلیکم)
6- چھوٹا بڑے کو، سوار پیدل چلنے والے کو، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوۓ کو اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو۔

س20: اجازت طلب کرنے کے آداب بیان کریں۔

ج- 1- داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کروں۔
2- صرف تین مرتبہ اجازت مانگوں، نہ ملے تو لوٹ جاؤں۔
3- دروازہ پر آہستہ دستک دوں اور دروازہ کے سامنے نہ ٹھہروں، بلکہ دائیں یا بائیں ٹھہروں۔
4- بغیر اجازت کے والدین یا کسی اور کے کمرے میں داخل نہ ہوں اور خاص طور سے فجر سے پہلے، قیلولہ کے وقت اور عشا کی نماز کے بعد۔
5- البتہ غیر رہائشی جگہوں جیسے ہسپتال یا مارکیٹ میں بغیر اجازت کے داخل ہو سکتا ہوں۔

س21: جانوروں کے ساتھ حسن سلوک کے آداب بیان کریں۔

ج- 1- جانوروں کو کھلاؤں پلاؤں۔
2- جانوروں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کروں اور طاقت سے زیادہ ان پر بوجھ نہ ڈالوں۔
3- انہیں کسی بھی طرح تکلیف نہ پہنچاؤں۔

س22: ورزش اور کھیل کود کے آداب بیان کریں۔

ج- 1- ورزش یا کھیل سے اللہ تعالی کی اطاعت اور اس کی رضامندی کے لئے طاقت وقوت حاصل کرنا ہو۔
2- نماز کے وقت نہ کھیلیں۔
3- لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ ورزش نہ کریں اور نہ کھیلیں۔
4- ہمیشہ ورزش یا کھیل کے لیے ساتر لباس پہنیں۔
5- حرام ورزش سے دور رہیں جیسے ایسی ورزش جس میں چہرہ پر مارا جاۓ یا سترپوشی کا لحاظ نہ رکھا جاۓ۔

س23: مذاق ومزاح کے چند آداب کا ذکر کریں۔

ج- سچی بات کہنا اور جھوٹ نہ بولنا۔
2- کسی کا مذاق نہ اڑانا، کسی کو تکلیف نہ دینا اور نہ کسی کو ڈرانا۔
3- زیادہ مذاق نہ کرنا۔

س24: چھینکنے سے متعلق آداب بیان کریں۔

ج- 1- جب چھینک آۓ تو ہاتھ، کپڑا یا کوئی رومال منہ پر رکھیں۔
2- چھکنکنے کے بعد (الحمد للہ) کہیں۔
3- اور جو اسے سنے وہ (يرحمك اللہ) کہے یعنی اللہ تعالی آپ پر رحم کرے۔
پھر چھینکنے والا جواب میں کہے: (يهديكم الله ويصلح بالكم) اللہ تعالی آپ کو ہدایت دے اور آپ کی حالت سدھار دے۔

س٢٥:جمائی کے آداب کیا ہیں؟

ج- 1- جمائی کے دبانے کی کوشش کرنا۔
2- (آہ آہ) کہہ کر آواز بلند نہ کرنا۔
3- منہ پر ہاتھ رکھنا۔

س26: تلاوت کے آداب ذکر کریں۔

ج- 1- با وضو ہو کر تلاوت کرنا۔
2- با ادب اور با وقار ہو کر بیٹھنا۔
3- تلاوت کے شروع میں (أعوذ بالله من الشيطان الرجيم) پڑھنا۔
4- تدبر کے ساتھ قرآن پڑھنا۔

اخلاق کا بیان30

س1: حسن اخلاق کی فضیلت بیان کریں۔

ج- نبئ اکرم ﷺ کا ارشاد ہے : "أَكْمَلُ المُؤمِنِينَ إِيمَاناً أَحسَنُهُم خُلُقاً'' ”مومنوں میں سب سے کامل ایمان والا وہ شخص ہے جو اخلاق میں سب سے اچھا ہو۔“ یہ حدیث ترمذی اور احمد نے روایت کی ہے۔

س2: کیوں ہمیں اسلامی اخلاق سے آراستہ ہونا چاہیے؟

ج- 1- کیوں کہ اس سے اللہ تعالی کی محبت حاصل ہوتی ہے۔
2- اور لوگوں کی محبت بھی حاصل ہوتی ہے۔
3- حسن اخلاق (قیامت کے دن) ترازو میں سب سے بھاری چیز ہوگا۔
4- اس سے نیکیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
5- حسن اخلاق کمال ایمان کی علامت ہے۔

س3: اخلاق کی تعلیم کہاں سے لیں؟

ج- قرآن کریم سے۔ ارشاد باری تعالی ہے: (یقیناً یہ قرآن وہ راستہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھا ہے)۔ [ سورۂ إسراء: ٩] اور سنت نبوی سے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "میری بعثت اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے ہوئی ہے"۔ یہ حدیث امام احمد نے روایت کی ہے۔

س4: احسان کسے کہتے ہیں اور اس کی کیا کیا شکلیں ہیں؟

ج- احسان یہ ہے کہ ہمیشہ اللہ تعالی کو یاد رکھیں اور مخلوقات کے ساتھ بھلائی کا برتاؤ کریں۔
نبیﷺ کا فرمان ہے:
"بے شک اللہ نے ہر کام کو اچھے طریقے سے کرنا ضروری قرار دیا ہے"۔ [صحیح مسلم]
احسان کی چند شکلیں مندرجۂ ذیل ہیں:
عبادت میں احسان یعنی اخلاص کے ساتھ عبادتیں انجام دینا۔
والدین کے ساتھ حسن سلوک قول عمل کے ذریعہ۔
قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک۔
پڑوسی کے ساتھ نیک برتاؤ۔
یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اچھا سلوک۔
بد اخلاقوں کے ساتھ بھی اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنا۔
اچھی بات کرنا۔
بہترین طریقہ سے بحث وگفتگو کرنا۔
جانوروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔

س5: اچھے سلوک کی ضد کیا ہے؟

ج- برا سلوک۔
جیسے عبادت میں اخلاص کا فقدان۔
والدین کی نافرمانی۔
رشتہ توڑنا۔
پڑوسیوں کو تکلیف دینا۔
غریبوں اور مسکینوں کے ساتھ اچھا برتاؤ نہ کرنا اور دیگر برے اقوال واعمال۔

س6: امانت کی قسمیں اور شکلیں کیا کیا ہیں؟

ج-
1- اللہ تعالی کے حقوق کی حفاظت میں امانت داری کرنا۔
اس امانت کی مختلف شکلیں ہیں جن میں نماز، زکوۃ، روزہ، حج اور سارے فرائض اور عبادتیں شامل ہیں۔
2- امانت کی دوسری قسم حقوق خلق کے تحفظ سے متعلق ہے:
جیسے لوگوں کی عزت وآبرو کا تحفظ۔
ان کے مال کی حفاظت۔
ان کی جان کا تحفظ۔
راز داری اورتمام وہ چیزیں جس پر لوگ آپ کو امین بنائیں اس کی حفاظت۔
کامیاب لوگوں کی صفت بیان کرتے ہوۓ اللہ تعالی نے فرمایا: (اور جو اپنی امانتوں اور وعدے کی حفاظت کرنے والے ہیں)۔ [سورہ مومنون: 8]

س7: امانت کی ضد کیا ہے؟

ج- خیانت یعنی اللہ تعالی کے اور لوگوں کے حقوق کو ضائع کرنا۔
نبی علیہ الصلاۃ والسلام کا فرمان ہے:
منافق کی نشانیاں تین ہیں'' -اور ان میں سے ایک نشانی کے بارے میں فرمایا: "جب اسے امین بنایا جاۓ تو خیانت کرے''۔ صحیح بخاری وصحیح مسلم۔

س8: سچائی کیا ہے؟

ج- کسی چیز کے بارے میں وہی بیان کرنا جو اس کی حقیقت ہو۔
اس کی بھی مختلف شکلیں ہیں، جیسے:
لوگوں سے سچ بولنا۔
سچا وعدہ کرنا۔
ہر قول وعمل میں سچا ہونا۔
نبی علیہ الصلاۃ والسلام کا فرمان ہے: سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف اور انسان مسلسل سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کا شمار صدیقوں (سچے لوگوں) میں ہو جاتا ہے"۔ صحیح بخاری وصحیح مسلم۔

س9: سچائی کی ضد کیا ہے؟

ج- جھوٹ جو کہ حقیقت کے بر خلاف ہوتا ہے جیسے لوگوں سے جھوٹ بولنا، وعدہ خلافی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔
نبیﷺ کا فرمان ہے:
(جھوٹ گناہ کے راستے پر چلاتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے‘ انسان مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ کا قصد کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالی کے نزدیک اسے جھوٹا لکھ لیا جاتا ہے)۔ صحیح بخاری وصحیح مسلم۔ نبی علیہ الصلاۃ والسلام کا فرمان ہے: "منافق کی نشانیاں تین ہیں" -اور ان میں سے ایک نشانی یہ بتائی کہ- "جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور وعدہ کرکے نہ نبھاۓ"۔ صحیح بخاری وصحیح مسلم۔

س10: صبر کی قسموں بتائیں۔

ج- اللہ تعالی کی اطاعت گزاری میں صبر کا دامن تھامے رکھنا۔
- گناہوں سے بچتے وقت صبر کرنا۔
تقدیر کے جان کاہ فیصلوں پر صبر کرتے ہوۓ ہر حال میں اللہ تعالی کی حمد وثنا بیان کرنا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(اور اللہ تعالی صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے)۔ [سورۂ آل عمران: ١٤٦] نبی علیہ الصلاۃ والسلام کا فرمان ہے: (مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کے ہر کام میں اس کے لیے خیر ہی خیر ہے، اگر اسے کوئى خوشى والى چیز حاصل ہوتى ہے اور اس پر وہ شکر کرتا ہے تو یہ شکر کرنا اس کے لیے باعث خیر ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف دہ بات لاحق ہوتی ہے اور اس پر صبر کرتا ہے تو یہ صبر کرنا بھی اس کے لیے باعث خیر ہے)۔ [صحیح مسلم]

س11: صبر کی ضد کیا ہے؟

ج- عبادت واطاعت میں صبر نہ کرنا، گناہوں سے بچتے وقت صبر نہ کرنا اور تکلیف دہ تقدیروں پہ بات یا فعل سے ناراضگی کا اظہار کرنا۔
بے صبری کی کچھ شکلیں یوں ہیں:

موت کی تمنا کرنا۔
چہرے پیٹنا۔
کپڑے پھاڑنا۔
بال بکھیرنا۔
خود کو ہلاکت کی بد دعا دینا۔
نبی علیہ الصلاۃ والسلام کا فرمان ہے: "آزمائش جتنی بڑی ہوتی ہے، اس کا بدلہ بھی اسی قدر بڑا ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو پسند فرماتا ہے، تو اس کو آزمائشوں سے دوچار فرماتا ہے، پس جو کوئی راضی و خوش رہے تو اسے رضا وخوشى ملتى ہے اور جو کوئی خفا ہوتو اسے ناراضگى ہى ملتى ہے۔" اسے ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

س12: مخلوق کے ساتھ تعاون کے بارے میں بتائیں۔

ج- اس سے مراد ہے لوگوں کا حق اور خیر کی باتوں میں ایک دوسرے کا تعاون کرنا۔
تعاون کی صورتیں:

حقوق کو لوٹانے کے سلسلہ میں تعاون کرنا۔
ظالم کے ظلم کو روکنے میں تعاون کرنا۔
لوگوں اور مساکین کی حاجت روائی میں تعاون کرنا۔
ہر بھلائی میں تعاون کرنا۔
ظلم وزیادتی اور گناہ کے کاموں میں تعاون نہ کرنا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’ایک دوسرے کی مدد، نیکی اور تقوى میں کرتے رہو اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔‘‘ [سورہ مائدۃ : ٢] نبی علیہ الصلاۃ والسلام کا فرمان ہے: "الْمُؤْمنُ للْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشدُّ بعْضُهُ بَعْضًا" ”ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے عمارت کی مانند ہے جس کا بعض حصہ بعض حصہ کو تقویت پہنچاتا ہے۔“ صحیح بخاری وصحیح مسلم۔ نبی علیہ الصلاۃ والسلام کا فرمان ہے: "ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اسے بے سہارا چھوڑے، جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرے گا، جو شخص کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرےگا اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک بڑی مصیبت کو دور فرمائے گا،اور جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو چھپائے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیب کو چھپائے گا"۔ صحیح بخاری وصحیح مسلم۔

س13: حیا کی کتنی قسمیں ہیں؟

ج- 1- اللہ تعالی سے حیا، کہ آپ اس کی نافرمانی نہ کریں۔
2- لوگوں سے حیا، فحش کلامی چھوڑنا اورستر نہ کھولنااس میں شامل ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"ایمان کی بہتر سے زیادہ شاخیں ہیں یا فرمایا کہ ایمان کی باسٹھ سے زیادہ شاخیں ہیں جن میں سے افضل ترین شاخ لا الہ الا اللہ کہنا ہے اور سب سے کم درجہ کی شاخ راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان کی ایک عظیم شاخ ہے۔ [صحیح مسلم]

س14:مخلوق کے ساتھ مہربانی کے مظاہر کیا ہیں؟

ج- بڑوں کا احترام کرنا اور ان پہ مہربان ہونا۔
- چھوٹوں پر شفقت کرنا۔
- فقیر، مسکین اور ضرورتمند کی غم گساری کرنا۔
- جانوروں پہ رحم کرنا، کہ انہیں کھلائے اور تکلیف نہ دے۔
اس سلسلہ میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
(مومنوں کی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت و مودّت اور باہمی ہمدردی کی مثال جسم کی طرح ہے کہ جب اس کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے بایں طور کہ نیند اڑ جاتی ہے اور پورا جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے)۔ صحیح بخاری وصحیح مسلم۔ رسول اللہ ﷺ نے مزید فرمایا: (رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا)۔ امام ابوداود اور امام ترمذی نے اسے روایت کیا ہے۔

س13: محبت کی کتنی قسمیں ہیں؟

۱-اللہ تعالی سے محبت۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اور ایمان والے سبے سے زیادہ اللہ سے محبت کرتے۔‘‘ [سورۂ بقرۃ : ١٦٥]
۲-رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
(قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کےنزدیک اس کے والدین اور آل واولاد سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں)۔ (صحیح بخاری)
۳-مومنوں سے محبت کرنا اور ان کے لیے وہی پسند کرنا جو خود کو پسند ہو۔
نبی علیہ الصلاۃ والسلام کا فرمان ہے:
(تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، یہاں تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند کرے، جو اپنے لئے کرتا ہو)۔ (صحیح بخاری)

س16: بشاشت کیا ہے؟

ج- خندہ پیشانی اور نرم مزاجی کے ساتھ خوش ہو کر مسکراتے ہوۓ لوگوں سے ملنا۔
بر خلاف ترش روئی کے جس سے لوگ متنفر ہو جاتے ہیں۔
اس کی فضیلت میں کئی حدیثیں وارد ہوئی ہیں، ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: (کسی نیکی کو ہر گز حقیر مت جانو، خواہ یہ تمہارا اپنے بھائی کے ساتھ خوش باش چہرے کے ساتھ ملنا ہی کیوں نہ ہو)۔ [صحیح مسلم] رسول اللہ ﷺ نے مزید فرمایا: (اپنے بھائی سے ملتے وقت مسکرانا بھی صدقہ ہے)۔ اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

س17: حسد کیا ہے؟

ج- حسد یہ ہے کہ دوسرے کی نعمت کے چھن جانے کی تمنا کرنا یا دوسرے کی نعمت کو نا پسند کرنا۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
{اور (میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں) ہر حسد کرنے والے کی برائی سے جب وہ حسد کرے}۔ [سورۂ فلق: 5]۔
اور انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، نہ حسد کرو، نہ منہ پھیرو بلکہ -اللہ کے بندوں- بھائی بھائی بن جاؤ"۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)

س18: استہزا کیا ہے؟

ج- اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جاننا اور اس کا مذاق اڑانا جو کہ جائز نہیں ہے۔
اس کی ممانعت کے سلسلہ میں اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:
"اے ایمان والو! مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں، اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور نہ کسی کو برے لقب دو، ایمان کے بعد فسق برا نام ہے، اور جو توبہ نہ کریں وہی ﻇالم لوگ ہیں"۔ [سورۂ حجرات: ١١]

س19: تواضع کسے کہتے ہیں؟

ج- تواضع یہ ہے کہ انسان خود کو کسی سے برتر نہ سمجھے، نہ لوگوں کو حقیر جانے اور نہ حق سے رو گردانی کرے۔
اللہ تعالی نے فرمایا :
(رحمن کے (سچے) بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں)۔ [سورۂ فرقان: 63]۔ یعنی تواضع کے ساتھ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو بھی اللہ تعالی کے واسطے تواضع اختیار کرے گا اللہ تعالی اسے بلند مقام عطا کرے گا"۔ [صحیح مسلم] نیز فرمایا: "الله تعالی نے مجھ پر وحی نازل کی ہے کہ تم سب تواضع اختیار کرو یہاں تک کہ تم میں سے کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور نہ ہی کوئی کسی پر ظلم کرے"۔ [صحیح مسلم]

س20: حرام کبر کی کتنی قسمیں ہیں؟

ج- 1- کبر وغرور کا مظاہرہ کرتے ہوۓ حق سے رو گردانی کرنا اور اسے قبول نہ کرنا۔
2- لوگوں پرگھمنڈ کرنا اور انہیں کمتر وحقیر جاننا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی برابر بھی تکبر ہوگا"۔ ایک شخص نے کہا کہ ‏آدمی کو یہ پسند ہوتا ہے کہ اس کے پاس عمدہ لباس اور اچھے جوتے ہوں، تو آپ نے فرمایا: "اللہ تعالی خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے، تکبر یہ ہے کہ حق کا انکار کیا جاۓ اور لوگوں کو حقیر سمجھا جاۓ"۔ [صحیح مسلم]
مذکورہ حدیث میں وارد لفظ "بَطَرُ الحَقِّ" کا معنى ہے: حق انکار کرنا۔
اور حدیث میں وارد لفظ "غَمْطُ النَّاسِ" کا معنى ہے: لوگوں کو حقیر سمجھنا-
اچھے جوتے اور اچھے کپڑے تکبر میں شامل نہیں ہیں۔

س21: فریب کی کچھ قسموں کا ذکر کریں۔

ج- خرید وفروخت میں دھوکہ بازی یعنی سامان کی کمیوں کو چھپانا۔
- طلب علم کے سلسلہ میں دھوکا دینا جیسے بچوں کا امتحانوں میں چیٹنگ کرنا۔
- باتوں میں فریب جیسے جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا۔
اپنی بات کی خلاف ورزی کرنا اور لوگوں کے ساتھ اتفاق کرنے کے بعد اس سے مکر جانا۔
دھوکہ اور فریب کی ممانعت کے سلسلہ میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غلہ کے ڈھیر کے پاس آۓ، آپ نے اس میں ہاتھ ڈالا تو آپ کی انگلیاں تر ہو گئیں، آپ نے دریافت کیا: "یہ کیا ہے؟" غلہ والے نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول! بارش میں بھیگ گیا تھا، آپ نے فرمایا: "تو پھر اسے اوپر کیوں نہیں رکھا کہ لوگ دیکھ سکتے؟ جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں"۔ [صحیح مسلم]
مذکورہ حدیث میں وارد لفظ "صبر‏ۃ" کا معنى ہے: غلہ کا ڈھیر۔

س22: غیبت کیا ہے؟

اپنے غیر موجود مسلم بھائی کو ایسى چیزوں کے ساتھ یاد کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (اور نہ تم میں سے کوئي کسی کی غیبت کرے، کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آۓ گی،اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے)۔ [سورۂ حجرات: ١٢]

س23: چغل خوری کیا ہے؟

ج- فساد اور بگاڑ پیدا کرنے کے لیے ایک کی بات دوسرے تک پہنچانا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(چغل خوری کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا)۔ [صحیح مسلم]

س24: سستی اور کاہلی کسے کہتے ہیں؟

ج- سستی سے مراد یہ ہے کہ انسان نیکی کے کاموں کو کرنے کو اور واجب حقوق کی ادائیگی کو بوجھ محسوس کرے۔
اور اسی طرح دین کے فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی کرنا۔
اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے :
(بے شک منافق اللہ سے چالبازیاں کررہے ہیں اور وہ انھیں اس چالبازی کا بدلہ دینے والا ہے، اور جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو بڑی کاہلی کی حالت میں کھڑے ہو تے ہیں، صرف لوگوں کو دکھاتے ہیں اور یادِ الٰہی تو یونہی سی برائے نام کرتے ہیں) [سورۂ نساء: ١٤٢]
سو مومن کے لئے لازم ہے کہ وہ سستى وکاہلی کو درکنار کرے اور نہ ہی اس کو زیبا ہے کہ بے کار بیٹھا رہے بلکہ اسے چاہیے کہ اس زندگی میں خوب تگ ودو کرے اور ہر دم اللہ تعالی کی رضا کی تلاش میں جد وجہد کرتا رہے۔

س25: غصہ کی کتنی قسمیں ہیں؟

ج- 1- ایسا غصہ جو قابل تعریف ہے: کہ جب کافر، منافق یا کوئی اور اللہ تعالی کی حرمتوں کو پامال کرے تو محض اللہ تعالی کی خاطر غصہ آۓ۔
2- ایسا غصہ جو قابل مذمت ہے: جس میں انسان نا روا حرکتیں اور نا گوار باتیں کر بیٹھتا ہے۔
قابل مذمت غصہ کا علاج:
وضو کرنا۔
کھڑا ہو تو بیٹھ جاۓ اور بیٹھا ہو تو لیٹ جاۓ۔
اس سلسلہ میں نبی صلی اللہ کی وصیت (غصہ نہ کرو) کو لازم پکڑے۔
غصہ کو ضبط کرنے کی کوشش کرے۔
شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ چاہے۔ (أعوذ بالله من الشيطان الرجيم) پڑھے۔
خاموش رہے۔

س26: تجسس (ٹوہ میں پڑنا) کسے کہتے ہیں؟

ج- لوگوں کی پوشیدہ باتوں کو ڈھونڈنا اور اور تلاش کرنا۔
اس کی چند حرام شکلیں یوں ہیں:

-دسروں کے گھروں کی قابل ستر چیزوں کا پتہ لگانا۔
-چھپ کر دوسروں کی باتیں سننا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اور ایک دوسرے کے حال کا تجسّس (جاسوسی) نہ کیا کرو‘‘۔ [سورۂ حجرات: ١٢]

س27: فضول خرچی کسے کہتے ہیں؟ بخیلی کیا ہے اور سخاوت کیا ہے؟

ج- اسراف (فضول خرچی) ناحق خرچ کرنے کو کہتے ہیں۔
اور اس کی ضد بخیلی ہے جس کے معنی ہیں خرچ کرنے کی جگہ پر بھی خرچ نہ کرنا۔
اور صحیح راستہ درمیانی راستہ ہے اور ایک مسلمان کو سخی ہونا چاہیے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (اور جو خرچ کرتے وقت بھی نہ تو اسراف کرتے ہیں نہ بخیلی، بلکہ ان دونوں کے درمیان معتدل طریقہ پر خرچ کرتے ہیں)۔ [سور‏سورۂ فرقان: 67]۔

س28: بز دلی کیا ہے؟ اور دلیری کسے کہتے ہیں؟

ج- بز دلی یہ ہے کہ انسان اس چیز سے بھی خوف کھاۓ جس سے خوف نہیں کھانا چاہیے۔
جیسے حق بات کہنا اور منکر کا انکار کرنا۔
دلیری:
حق باتوں میں پیش رفت کرنا جیسے اسلام اور اہل اسلام کے دفاع میں میدان کار زار میں پیش قدمی کرنا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعاؤں میں فرماتے تھے: (اے اللہ! میں بز دلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں)۔ رسول اللہ ﷺ نے مزید فرمایا: (کمزور مومن کی نسبت طاقتور مومن بہتر اور اللہ کو زیادہ پیارا ہے البتہ خیر کا پہلو دونوں میں ہے)۔ [صحیح مسلم]

چند حرام باتوں کا ذکر کریں۔

ج- - جیسے لعن طعن کرنا اور گالی دینا۔
اور جیسے:
فلاں حیوان ہے وغیرہ الفاظ کہنا۔
- یا شرم گاہ وغیرہ کا ذکر کرتے ہوۓ گندی اور فحش باتیں کرنا۔
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام چیزوں سے منع کرتے ہوۓ فرمایا:
(مومن طعن وتشنیع کرنے والا، بکثرت لعنت کرنے والا، فحاش اور بدگو نہیں ہوتا)۔ اسے ترمذی اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

س30: چند ایسی باتیں ذکر کریں جو اخلاق حسنہ کے اختیار کرنے پر آمادہ کریں۔

ج- 1- یہ دعا کرنا کہ اللہ تعالی آپ کو حسن اخلاق کی توفیق دے اور اس پر تمہاری مدد کرے۔
2- ہمیشہ یہ بات ذہن میں رکھنا کہ اللہ تعالی آپ سے باخبر ہے، آپ کو سنتا اور دیکھتا ہے۔
3- حسن اخلاق کے ثواب کو یاد کرنا اور یہ یاد رکھنا کہ یہ جنت میں داخل ہونے کا سبب ہے۔
4- یاد رکھنا کہ برے اخلاق کا انجام برا ہے اور وہ جہنم میں جانے کا سبب ہے۔
5- یہ بات ذہن نشیں رکھنا کہ اچھے اخلاق سے اللہ اور اس کے بندوں کی محبت حاصل ہوتی ہے اور برے اخلاق سے اللہ اور اس کے بندوں کی نفرت۔
6- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرنا اور ان کی پیروی کرنا۔
7- نیک نوگوں کی صحبت اختیار کرنا اور برے لوگوں سے دور رہنا۔

اذکار اور دعائیں43

س1: ذکر کی فضیلت کیا ہے؟

ج- نبیﷺ کا فرمان ہے: ((مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لاَ يَذْكُرُ رَبَّهُ، مَثَلُ الحَيِّ وَالمَيِّتِ))
”اس شخص کی مثال جو اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور جو اپنے رب کا ذکر نہیں کرتا، ایسی ہی ہے جیسے زندہ اور مردہ کی مثال ہے۔“ (صحیح بخاری)
کیوں کہ انسان کی زندگی کی قدر وقیمت اتنی ہی ہے جتنا وہ اللہ تعالی کا ذکر کرتا ہے۔

س2: ذکر کے چند فوائد بتائیں۔

ج- 1- رحمن کی رضا کا سبب بنتا ہے۔
2- شیطان سےدور رکھتا ہے۔
3- برائیوں سے مسلم کى حفاظت کرتا ہے۔
4- اس کى بدولت اجر وثواب حاصل ہوتا ہے۔

س3: افضل ترین ذکر کونسا ہے؟

ج- «لا إله إلا الله» اسے ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

س4: نیند سے بیدار ہونے کی دعا کیا ہے؟

ج- «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا، وإليه النشور» ’’ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں زندہ کیا، بعد اس کے کہ اس نے ہمیں ماردیا تھا اور اسی کی طرف اٹھ کرجانا ہے۔‘‘ صحیح بخاری وصحیح مسلم۔

س5: لباس پہننے کی دعا کیا ہے؟

ج- «الحمد لله الذي كساني هذا الثوب ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة» ’’ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے مجھے یہ لباس پہنایا اور مجھے میری ذاتی قوت اور طاقت کے بغیر یہ عطا کیا۔‘‘ ابوداؤد اور ترمذی وغیرہ نے اس کی روایت کی ہے۔

س6: کپڑا اتارنے کی دعا کیا ہے؟

ج- «بسم الله» اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

س7: نیا لباس پہننے کی دعا کیا ہے؟

ج- «اللهم لك الحمد أنت كسوتنيه، أسألك خيره وخير ما صنع له، وأعوذ بك من شره وشر ما صنع له» ’’اے اللہ ! تیرے ہی لیے ہر قسم کی تعریف ہے، تجھی نے مجھے یہ پہنایا، میں تجھی سے سوال کرتاہوں اس کی بھلائی کا اور اس کام کی بھلائی کا جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس کے شر سے اور اس کام کے شر سے جس کےلیے اسے بنایا گیا ہے۔‘‘ امام ابوداود اور امام ترمذی نے اسے روایت کیا ہے۔

س8: نیا لباس پہننے والے کے لیے کونسی دعا ہے؟

ج- جب دوسرے کو نیا لباس زیب تن کرتے دیکھیں تو یہ دعا پڑھیں: ’’تم اسے بوسیدہ کرو اور اللہ تعالی (تمھیں) اس کے عوض اور دے۔‘‘ (سنن ابی داود)

س9: بیت الخلا میں داخل ہونے کی دعا بتائیں۔

ج- «اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث» "اے اللہ! میں ناپاک جنّوں اور جنّیوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں"۔ صحیح بخاری وصحیح مسلم۔

س10: بیت الخلا سے نکلنے کی دعا کیا ہے؟

ج- «غفرانك» "اے اللہ، میں تیری مغفرت کا طالب ہوں"۔ امام ابوداود اور امام ترمذی نے اسے روایت کیا ہے۔

س11: وضو سے پہلے کیا کہنا ہے؟

ج- «بسم الله» اسے امام ابوداود وغیرہ نے روایت کیا ہے۔

س١٢ ـ وضو کے بعد کی دعا کیا ہے؟

ج- «أشْهَدُ أنْ لا إلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، وأشهدُ أنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ». "میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اوراس کے رسول ہیں"۔ [صحیح مسلم]

س١٣ ـ گھر سے نکلتے وقت کونسا ذکر پڑھیں؟

ج- «بسم الله، توكلت على الله، ولا حول ولا قوة إلا بالله»
’’(میں اس گھر سے ) اللہ کے نام کے ساتھ (نکل رہاہوں) میں نے اللہ پر بھروسہ کیا اور گناہ سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ ہی کی توفیق سے۔‘‘ امام ابوداود اور امام ترمذی نے اسے روایت کیا ہے۔

س١٤ ـ گھر میں داخل ہوتے وقت کونسا ذکر پڑھیں؟

ج- «"بسم الله ولجنا، وبسم الله خرجنا، وعلى الله ربنا توكلنا"، ثم ليسلم على أهله» ’’اللہ کےنام کےساتھ ہم ( گھرمیں) داخل ہوئے اور اللہ ہی کے نام کے ساتھ ہم نکلے اور اپنے رب ہی پر ہم نے توکل کیا، پھر اپنے اہل وعیال کو سلام کرے۔‘‘ (سنن ابی داود)

س15: مسجد میں داخل ہونے کی دعا کیا ہے؟

ج- «اللهم افتح لي أبواب رحمتك» "اے اللہ، میرے لیے تیری رحمت کے دروازے کھول دے"۔ [صحیح مسلم]

س16: مسجد سے نکلنے کی دعا کیا ہے؟

ج- «اللهم إني أسألك من فضلك» "اے اللہ، میں تجھ سے تیرے فضل کا طلبگار ہوں"۔

س17: اذان سنتے وقت کونسی دعا کہیں؟

ج- مؤذن کے الفاظ کو دہرائیں گے، لیکن (حي على الصلاة) اور (حي على الفلاح) کی جگہ (لا حول ولا قوة إلا بالله) کہیں گے۔ صحیح بخاری وصحیح مسلم۔

ج- اذان کے بعد کی دعا کیا ہے؟

ج- نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا۔ [صحیح مسلم] اور یہ دعا کہنا: «اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلاَةِ القَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الوَسِيلَةَ وَالفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ».
"اے اللہ اس کامل دعوت اور قائم ہونے والی نماز کے رب! محمدﷺ کو قرب اور فضیلت عطا فرما اور انہیں مقام محمود پر کھڑا کر جس کا تو نے وعدہ کیا ہے"۔ صحیح بخاری
اور اذان واقامت کے درمیان دعا کریں کیوں کہ اس وقت دعا رد نہیں ہوتی۔

س19: صبح وشام کے اذکار کونسے ہیں؟

ج- 1- آیۃ الکرسی [سورۂ بقرہ: 255]: "اللہ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جو زنده اور سب کا تھامنے واﻻ ہے، جسے نہ اونگھ آئے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں، کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے، وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے، اس کی کرسی کی وسعت نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاﻇت سے تھکتا نہیں ہے، وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے"۔ [سورۂ بقرۃ : ٢٥٥] 2- اور پڑھیں:بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ (آپ کہہ دیجیے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے۔ اللہ بے نیاز اور سب کے اس کے محتاج ہیں ہے۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے)۔ [سورۂ اخلاص 1-4] (تین بار) بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِمِ (آپ کہہ دیجئے کہ میں صبح کے مالک کی پناہ لیتا ہوں۔ تمام مخلوقات کے شر سے۔ اور اندھیرا کرنے والی (رات) کے شر سے جب وہ چھا جائے۔ اور گره (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی)۔ اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وه حسد کرے)۔ [سورۂ فلق 1-5](تین بار) بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِمِ (آپ کہہ دیجیے کہ میں پناه میں آتا ہوں لوگوں کے رب کی ۔ لوگوں کے مالک کی۔ لوگوں کے معبود کی۔ وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے۔ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ (خواه) وه جن میں سے ہو یا انسان میں سے)۔ [سورۂ ناس1-6] (تین بار) 3- «اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت، خلقتني وأنا عبدك، وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت، أعوذ بك من شر ما صنعت، أبوء لك بنعمتك علي، وأبوء بذنبي، فاغفر لي، فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت»
’’اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سواکوئی سچا معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا فرمایا اور میں تیرا بندہ ہوں اور میں اپنی طاقت کےمطابق تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں، میں تجھ سے اس چیز کےشر سے پناہ مانگتا ہوں جس کا میں نے ارتکاب کیا، میں تیرے سامنے تیرے انعام کا اقرار کرتا ہوں جو مجھ پر ہوا اور میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں، لہذا تو میرى مغفرت فرمادے، واقعہ یہ ہے کہ تیرے سوا کوئی گناہوں کى مغفرت کوئى نہیں کرسکتا۔‘‘ (صحیح بخاری)

س20: سونے کے وقت کونسی دعا پڑھنی ہے؟

ج- «باسمك اللهم أموت وأحيا». ’’تیرے ہی نام کے ساتھ اے اللہ ! میں مرتا اور زندہ ہوتا ہوں۔‘‘ صحیح بخاری وصحیح مسلم۔

س21: کھانا کھانے سے پہلے کی دعا کیا ہے؟

ج- «بسم الله»
اگر یہ دعا شروع میں کہنا بھول جائیں تو یوں کہیں:
«بسم الله في أوله وآخره» "شروع بھی اللہ کے نام سے اور ختم بھی اللہ کے نام سے"۔ امام ابوداود اور امام ترمذی نے اسے روایت کیا ہے۔

س22: کھانے سے فراغت کے بعد کی دعا کیا ہے؟

ج- "اس اللہ کے لئے تمام تعریفیں ہیں جس نے مجھے یہ کھلایا اور مجھے یہ روزی بغیر کسی طاقت اور قوت کے مہیا کی۔" امام ابوداود اور ابن ماجہ وغیرہ نے اس کی روایت کی ہے۔

س23: مہمان میزبان کے لیے کونسی دعا کہے گا؟

ج- «اللـهم بـارك لهـم فيما رزقتهـم، واغـفر لهم وارحمهم»
’’اے اللہ ! ان کے لیے ان چیزوں میں برکت عطا فرما جو تو نے ان کو دیں اور ان کى مغفرت فرما اور ان پر رحم فرما۔‘‘ [صحیح مسلم]

س24: چھینکنے کی دعا کیا ہے؟

ج- «الحمد لله». "بیشک تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں"۔
اور جو اسے سنے وہ «يرحمك الله» (اللہ آپ پہ رحم کرے) کہے۔
پھر چھینکنے والا جواب میں کہے: (يهديكم الله ويصلح بالكم) اللہ تعالی آپ کو ہدایت دے اور آپ کی حالت سدھار دے۔ (صحیح بخاری)

س25: کسی مجلس سے اٹھنے کی دعا یا دعاۓ کفارۃ المجلس کیا ہے؟

«سُبْحانَكَ اللَّهُمَّ وبِحَمْدِكَ، أشْهَدُ أنْ لا إلهَ إلَّا أنتَ، أسْتَغْفِرُكَ وأتُوبُ إلَيكَ». (اے اللہ! پاک ہےتو اپنی تعریفوں سمیت، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی برحق معبود نہیں ہے، میں تجھ سے مغرفت طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔) ابوداود اور ترمذی وغیرہ نے اس کی روایت کی ہے۔

س26: سواری پر سوار ہونے کی دعا کیا ہے؟

ج- بسم الله، والحمد لله ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ 13 وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ 14﴾، «الحمد لله، الحمد لله، الحمد لله، الله أكبر، الله أكبر، الله أكبر، سبحانك اللهم إني ظلمت نفسي فاغفر لي؛ فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» اللہ کے نام سے (سفر کا آغاز کرتا ہوں) اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، (پاک ذات ہے اس کی جس نے اسے ہمارے بس میں کر دیا حالانکہ ہمیں اسے قابو کرنے کی طاقت نہ تھی۔ اور بالیقین ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں)، «تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ اے اللہ، تیری ذات پاک ہے۔ میں نے خود پر ظلم کیا ہے میرى مغرفت فرما کیوں کہ تیرے سوا کوئی گناہوں کى مغفرت نہیں کر سکتا»۔ امام ابوداود اور امام ترمذی نے اسے روایت کیا ہے۔

س27: سفر کی دعا کیا ہے؟

ج- «الله أكبر، الله أكبر، الله أكبر ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ 13 وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ 14﴾، اللهم إنا نسألك في سفرنا هذا البر والتقوى ومن العمل ما ترضى، اللهم هون علينا سفرنا هذا، واطو عنا بعده، اللهم أنت الصاحب في السفر، والخليفة في الأهل، اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر، وكآبة المنظر، وسوء المنقلب، في المال والأهل» "اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے (پاک ذات ہے اس کی جس نے اسے ہمارے بس میں کر دیا حالانکہ ہمیں اسے قابو کرنے کی طاقت نہ تھی، اور بالیقین ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں)۔ اے اللہ، اس سفر میں ہم تجھ سے نیکی، تقوی اور ایسے عمل کی توفیق طلب کرتے ہیں جس سے تو راضی ہو جاۓ، اے اللہ، ہمارے سفر کو آسان فرما اور اس کی مسافت کم کر دے، اے اللہ، تو ہی سفر کا ساتھی اور اہل وعیال کا محافظ ہے، اے اللہ، میں تیری پناہ چاہتا ہوں سفر کی شدت سے، ایسے منظر سے جو غمگین کر دے اور اس بات سے کہ مال واہل کو کوئی برائی لاحق ہو"۔
نبی اکرم ﷺ سفر سے واپسی پر بھی یہی الفاظ کہتے اور ان میں یہ اضافہ کرتے :

’’(ہم) واپس لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، اور اپنے رب ہی کی تعریف کرنے والے ہیں۔‘‘ [صحیح مسلم]

س28: مسافر مقیم کے لیے کیا دعا کرے گا؟

ج- «أستودعكم الله الذي لا تضيع ودائعه» ’’میں تمھیں اس اللہ کے سپرد کرتا ہوں جس کو سپرد کی ہوئی چیزیں ضائع نہیں ہوتیں۔‘‘ احمد اور ابن ماجہ نے اسے روایت کیا ہے۔

س29: مقیم مسافر کے لیے کیا دعا کہے گا؟

ج- «أستودع الله دينك، وأمانتك، وخواتيم عملك» "میں تمہارا دین، تمہاری امانت داری اور تمہارے آخری اعمال اللہ کے حوالہ کرتا ہوں"۔ اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔

س30: بازار میں داخل ہونے کی دعا کیا ہے؟

ج- «لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، يحيي ويميت، وهو حي لا يموت، بيده الخير، وهو على كل شيء قدير»
’’اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت اور سب تعریف اسی کے لیے ہے، وہی زندگی دیتا اور وہی مارتا ہے اور وہ زندہ ہے مرتا نہیں، اسی کے ساتھ میں سب بھلائی ہے اور وہ ہر چیز پر (کامل) قدرت رکھتا ہے۔‘‘ اسے ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

س31: غصہ کے وقت کونسی دعا پڑھنی چاہیے؟

ج- 'أعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطانِ الرَّجِيمِ' صحیح بخاری وصحیح مسلم۔

س32: اچھا سلوک کرنے والے کے لیے کیا دعا ہے؟

ج- «جزاك الله خيرا» "اللہ آپ کو بہترین جزا دے" اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

س33: جب سواری کو کوئی لغزش، خرابی یا برائی لاحق ہو تو کیا کہنا چاہیے؟

ج- «بسم الله» (سنن ابی داود)

س34: خوشی کے وقت کیا دعا ہے؟

ج- «الحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات» "تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس کے فضل سے نیک کام پایہَ تکمیل کو پہنچتے ہیں"۔ اس حدیث کو امام حاکم وغیرہ نے روایت کیا ہے۔

س35: جب کوئی برائی لاحق ہو تو کونسی دعا کہیں؟

ج- «الحمد لله على كل حال» "ہر حال میں تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہے"۔ صحیح الجامع

س36: سلام اور اس کے جواب کا طریقہ کیا ہے؟

ج- مسلم سلام یوں کہے گا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ»۔
اور اس کے جواب میں اس کا مسلم بھائى یہ کہے گا: «وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ»۔ ترمذی اور ابوداؤد وغیرہ نے اس کی روایت کی ہے۔

س37: بارش کے وقت کونسی دعا کہیں؟

ج- «اللهم صيباً نافعاً» "اے اللہ! اسے نفع دینے والی بارش بنادے"۔ صحیح بخاری

س37: بارش رکنے کے بعد کونسی دعا کہیں؟

ج- «مطرنا بفضل الله ورحمته» "یہ بارش اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہوئی"۔ [صحیح بخاري وصحیح مسلم]

س39: ہوا چلتے وقت کونسی دعا پڑھنی چاہیے؟

ج- «اللهم إني أسألك خيرها وأعوذ بك من شرها» ’’اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘ اسے امام ابوداود اور امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

س40: بادلوں کی گرج سنتے وقت کونسی دعا ہے؟

ج- «سبحان الذي يسبح الرعد بحمده والملائكة من خيفته» ’’پاک ہے وہ ذات کہ گرج اس کی حمد کے ساتھ تسبیح پڑھتی ہے اور فرشتے اس کے ڈر سے (تسبیح کرتے ہیں)۔‘‘ موطّأ امام مالک

س41: کسی مصیبت زدہ شخص کو دیکھ کر کونسی دعا کہنا چاہیے؟

ج- «الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به، وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلاً» ’’ہر قسم کی تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے اس چیز سے عافیت دی جس میں تجھے مبتلا کیا ہے اور مجھے اپنی مخلوق میں سے بہت سوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔‘‘ اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

س42: اپنی نظر لگ جانے کا اندیشہ ہو تو کیا کہے؟

ج- رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے : "جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی یا اپنے ہاں یا اپنے مال میں خوش کن چیز دیکھے تو اسے برکت کی دعا کرنی چاہیے کیوں کہ نظر (لگ جانا) حق ہے"۔ اسے احمد اور ابن ماجہ وغیرہ نے روایت کیا ہے۔

س43: نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہ درود کیسے بھیجنا ہے؟

«اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ»
”اے اللہ! محمد پر اور آل محمد پر رحمت نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر رحمت نازل کی ہے، بے شک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے، اسی طرح محمد پر اور آل محمد پر برکت نازل فرما، جیسے ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر برکت نازل کی ہے، بے شک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔“ صحیح بخاری وصحیح مسلم۔

متنوعات21

س1: پانچ احکام تکلیفیہ کیا کیا ہیں؟

ج-
1- واجب۔
2- مستحب۔
3- محرم۔
4- مکروہ۔
5- مباح۔

س2: ان پانچ احکام کی تشریح کریں۔

ج-
1- واجب: جیسے پانچ وقت کی نمازیں، رمضان کے روزے اور والدین کے ساتھ حسن سلوک۔
- واجب کے کرنے والے کو ثواب ملے گا اور اور چھوڑنے والے کو سزا۔
2- مستحب: جیسے نماز کی سنتیں، تہجد کی نماز، کھانا کھلانا اور سلام کرنا۔ اور اسے سنت اور مندوب بھی کہتے ہیں۔
- اس کے کرنے والے کو ثواب ملے گا اور چھوڑنے والے کو سزا نہیں ملے گی۔
تنبیہ:

ایک مسلمان کی یہ صفت ہونی چاہیے کہ جب کسی سنت کا علم ہو تو جلد اس پر عمل کرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرے۔
3- محرم: جیسے شراب پینا، والدین کی نافرمانی اور قرابت داروں کے ساتھ قطع تعلقی۔
محرم سے بچنے والے کو ثواب ملے گا اور کرنے والے کو سزا ملے گی۔
4- مکروہ: جیسے بائیں ہاتھ سے لین دین اور نماز کی حالت میں کپڑا سمیٹ کر رکھنا۔
مکروہ سے اجتناب کرنے والے کو اجر ملے گا اور کرنے والے کو سزا دی جاۓ گی۔
5- مباح: جیسے سیب کھانا اور چاۓ پینا اور اسے جائز اور حلال بھی کہا جاتا ہے۔
نہ اس سے اجتناب کرنے والے کو اجر ملے گا اور نہ کرنے والے کو سزا دی جاۓ گی۔

س3: خرید وفروخت اور معاملات کا حکم کیا ہے؟

ج- تمام قسم کے خرید وفروخت اور معاملات کے بارے میں قاعدہ یہ ہے کہ سب حلال ہیں سواۓ چند قسموں کے جنہیں اللہ تعالی نے حرام قرار دیا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’تجارت کو اللہ نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام‘‘۔ [سورۂ بقرۃ : ٢٧٥]

چند ناجائز خرید وفروخت اور معاملات کا ذکر کریں۔

ج-
1- دھوکہ دینا، جس میں سامان کی کسی خرابی کو چھپانا بھی شامل ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غلہ کے ڈھیر کے پاس آۓ، آپ نے اس میں ہاتھ ڈالا تو آپ کی انگلیاں تر ہو گئیں، آپ نے دریافت کیا: "یہ کیا ہے؟" غلہ والے نے جواب دیا: اللہ کے رسول، بارش میں بھیگ گیا تھا،آپ نے فرمایا: "تو پھر اسے اوپر کیوں نہیں رکھا کہ لوگ دیکھ سکتے؟ جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں"۔ [صحیح مسلم]
2- سود: جیسے کہ میں کسی سے بطور ادھار ہزار روپیے لوں اس شرط پر کہ اسے دو ہزار لوٹاؤں۔
یہ زائد رقم ہی سود ہے جو کہ حرام ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’تجارت کو اللہ نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام‘‘۔ [سورۃ البقرۃ : ٢٧٥]
3- کسی چیز کا مجہول ہونا اور اس میں دھوکے کا امکان ہونا: جیسے میں آپ کو بکری کے تھن میں موجود دودھ بیچوں یا پانی کے اندر موجود مچھلیاں بیچوں۔
حدیث میں ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجہول بیع سے منع فرمایا ہے۔ [صحیح مسلم]

س5: اللہ تعالی کی چند نعمتوں کا ذکر کریں جن سے اللہ نے آپ کو نوازا ہے۔

ج- 1- اسلام کی نعمت کہ میں کافر نہیں۔
2- سنت کی نعمت کہ میں بدعتی نہیں ہوں۔
3- صحت وعافیت کی نعمت کہ آنکھ، کان پیر سب سلامت ہیں۔
4- کھانے، پینے اور لباس کی نعمت۔
اور ایسی ہی اللہ تعالی کی ہم پر بے شمار نعمتیں ہیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(اگر تم اللہ تعالی کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو تم اسے شمار نہیں کر سکتے۔ بے شک اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے)۔ [سورۂ نحل: 18]

س6: نعمتوں کے سلسلہ میں کیا واجب ہے؟ اور ان کا شکر کیسے ادا کرنا ہے؟

ج- نعمتوں کے سلسلہ میں واجب یہ ہے کہ ان کا شکر ادا کرتے ہوۓ اللہ تعالی کی حمد وثنا بیان کریں اور یہ اقرار کریں کہ فضل صرف اسی کا ہے اور ان نعمتوں کے ذریعہ اس کی رضا جوئی کریں نافرمانی نہیں۔

س7: مسلمانوں کی عیدیں کیا کیا ہیں؟

ج- عید الفطر اور عید الاضحی۔
جیسا کہ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لاۓ تو دیکھا کہ اہل مدینہ کے دو خاص دن ہیں جن میں وہ خوشیاں مناتے ہیں۔ تو آپ نے دریافت کیا: (یہ دو دن کیسے ہیں؟) تو وہ بولے: کہ زمانۂ جاہلیت میں ہم ان دونوں دنوں میں کھیل مستى کیا کرتے تھے، تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ تعالی نے تمہیں ان کے بدلہ ان سے بہتر دو دن دیے ہیں: عید الاضحی اور عید الفطر)۔ اسے ابوداود نے روایت کیا ہے۔
اور ان کے سوا دیگر عیدیں بدعتوں میں شامل ہیں۔

س8: افضل ترین مہینہ کونسا ہے؟

ج- ماہ رمضان۔

س9: (ہفتے کا) افضل ترین دن کونسا ہے؟

ج- جمعہ کا دن۔

س10: سال کا افضل ترین دن کونسا ہے؟

ج- عرفہ کا دن۔

س11: سال کی افضل ترین رات کونسی ہے؟

ج- شب قدر۔

س12: کوئی غیر محرم عورت نظر آۓ تو کیا کرنا ضروری ہے؟

ج- نگاہ نیچی رکھنا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: ((قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ)) ”مومنین سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں جھکائے رکھیں"۔ [سورۂ نور: ٣٠]

س13: انسان کے دشمن کون ہیں؟

1- نفس امارہ (برائی پر آمادہ کرنے والا نفس): اس نفس کی خواہشات کی اتباع کرتے ہوۓ انسان گناہوں میں واقع ہوتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: (بے شک نفس تو برائی پر ابھارنے والا ہی ہے، مگر یہ کہ میرا پروردگار ہی رحم کرے، یقینا میرا رب بڑى م کرنے مغمفرت والا نہایت رحم والا ہے)۔ [سورۂ يوسف: 53] 2: شیطان: یہ ابن آدم کا دشمن ہے اور اس کا مقصد ہی انسان کو گمراہ کرنا، اس کے دل میں برائی کا وسوسہ ڈالنا اور بالآخر اسے جہنم تک پہونچادینا ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا: (اور شیطان کے قدم بقدم مت چلو، بے شک وہ تمہارا صریح دشمن ہے)۔ [سورۃ البقرۃ : ١٦٨] 3- برے لوگ: جو برائی پر ابھارتے ہیں اور بھلائی سے روکتے ہیں۔ فرمان باری تعالی ہے: (اس دن گہرے دوست بھی ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے سواۓ پرہیز گاروں کے)۔ (سورۂ زخرف: 67)

س14: توبہ کیا ہے؟

ج- توبہ: اللہ تعالی کی نافرمانی سے پلٹ کر اس کی اطاعت کی طرف لوٹنے کا نام ہے، اللہ تعالی نے فرمایا: "ہاں بے شک میں انہیں بخش دینے واﻻ ہوں جو توبہ کریں ایمان ﻻئیں نیک عمل کریں اور راه راست پر بھی رہیں". [سورۂ طہ: ٨٢]

س15: صحیح توبہ کی شرائط کیا ہیں؟

ج- 1- گناہ چھوڑ دینا۔
2- ہوچکے پر نادم ہونا۔
3- اس گناہ کے دو بارہ نہ کرنے کا عزم کرنا۔
4- لوگوں کے حقوق انہیں واپس کرنا اور ظلم سے پاک ہونا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(جب ان سے کوئی ناشائستہ کام ہو جاۓ یا کوئي گناہ کر بیٹھیں تو فورا اللہ کا ذکر اور گناہوں کے لیے استغفار کرتے ہیں، فی الواقع اللہ تعالی کے سوا اور کون گناہوں کى مغفرت کرسکتا ہے؟ اور وہ لوگ با وجود علم کے کسی برے کام پر اڑ نہیں جاتے)۔ [سورۂ آل عمران: ١٣٥]

س16: نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کا کیا مطلب؟

ج- اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ وہ فرشتوں میں اپنے نبی کی مدح وستائش کرے۔

س17: سبحان اللہ کے معنی کیا ہیں؟

ج- اس کے معنی ہیں اللہ تعالی کو ہر برائی اور کمی سے پاک تسلیم کرنے کے۔

س18: الحمد للہ کے معنی کیا ہیں؟

ج- اللہ تعالی کی تعریف کرنا اور اسے تمام صفات کمال سے موصوف کرنا۔

س19: اللہ اکبر کے معنی کیا ہیں؟

ج- اللہ تعالی ہر چیز سے بڑا اور برتر ہے۔

س20: لا حول ولا قوة إلا بالله کے معنی کیا ہیں؟

ج- بندہ ایک حالت سے دوسری حالت پہ اپنى طاقت کى بدولت نہیں پہنچ سکتا اگر اللہ تعالی کی مدد نہ ہو۔

س17: أستغفر اللہ کے معنی کیا ہیں؟

ج- بندے کا اپنے رب سے یہ گزارش کرنا کہ وہ اس کے گناہوں کو مٹا دے اور اس کے عیوب کو چھپا لے۔